امریکا میں اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے 206 ملین ڈالر خرچ کی جاتی ہے

  • Work-from-home

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
ٹیکساس:
امریکا میں اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پروان چڑھانے کا سلسلہ ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے 206 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔


کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں 74 گروپ مصروف ہیں جو 2008ء سے 2013ء کے دوران مجموعی طور پر 206 ملین ڈالر (تقریباّ 21 ارب پاکستانی روپے) خرچ کرچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان میں سے 33 گروپوں کا بنیادی مقصد ’’مسلمانوں اور اسلام کے خلاف تعصب یا نفرت کو فروغ دینا ہے۔‘‘



رپورٹ کی مصنفہ کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ’’جس انداز سے نفرت کی آگ بھڑکارہے ہیں اور اس پر سرمایہ کاری کررہے ہیں، اس کے حقیقی نتائج امریکا میں مساجد پر بڑھتے ہوئے حملوں اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ قوانین کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔‘‘

مصنفہ نے مزید بتایا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے ذیل میں واشنگٹن میں واقع ’’سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی‘‘ اور ’’ایکٹ فار امریکا‘‘ نامی اداروں کا سب سے زیادہ اثرو رسوخ ہے۔ سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی اور ڈیوڈ ہارووٹز فریڈم سینٹر نے گزشتہ دنوں سینیٹر جیف سیشنز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔ جیف سیشنز کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی سے ہے اور ٹرمپ کے صدر بن جانے کی صورت میں ان کے نائب صدر بننے کا قوی امکان ہے۔

رپورٹ میں 2 اور مسلم دشمن نام، جوزف شمٹز اور ویلڈ فاریز بھی ایکٹ فار امریکا کے بورڈ ممبر رہ چکے ہیں۔ اسی رپورٹ میں اسلام مخالف بلوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو امریکا کی 10 ریاستوں میں قانون کے طور پر نافذ ہوچکے ہیں۔

امریکا میں 2015ء کے دوران ایسے 78 واقعات منظرِ عام پر آئے جن میں بطور خاص مساجد کو نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ کسی بھی ایک سال کے دوران مساجد پر حملوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔

 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


جس کسی کو بھی امريکی معاشرے ميں رہنے اور يہاں کے طرز زندگی کو سمجھنے کا تجربہ ہے وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ امريکی معاشرہ کسی مخصوص مذہب، کميونٹی يا نسل سے محبت يا نفرت کی ترغيب کی بنياد پر قائم نہيں کيا گيا۔ امريکی آئين کی بنيادی اساس اور اصول يہ غير متزلزل يقين ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے ليے برداشت کے جذبے کو فروغ ديا جانا چاہيے اور مذہبی وابستگی سے قطع نظر ہر شخص کو مساوی حقوق حاصل ہيں۔


کسی بھی معصوم فرد کے مذہبی اور سياسی افکار اور وابستگی سے قطع نظر کسی بھی قسم کے امتيازی سلوک يا نفرت پر مبنی جرم کو منصفانہ قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔ امريکی آئين اور ملک ميں رائج قوانين اس بات کو يقينی بناتے ہيں کہ تمام شہريوں کو امتيازی سلوک اور نفرت پر مبنی جرائم سے مکمل تحفظ فراہم کيا جاۓ اور محرک سے قطع نظر مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی بھی نرمی نا برتی جاۓ۔


ايک مخصوص واقعے کو بنياد بنا کر امريکہ پر تنقید کی بجاۓ، راۓ دہندگان کو ان شاندار مثالوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے جو امريکہ ميں آزادی، برداشت اور مجموعی سطح پر امريکی معاشرے کی جانب سے ہر مذہب اور ثقافت سے ميل جول اور سب کے ليے برابری کی خواہش کے ضمن ميں نہ صرف يہ کہ درخشاں اور قابل ستائش ہيں بلکہ ہمارے آئين کی اصل روح کے مطابق ہيں۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں 74 گروپ مصروف ہیں جو 2008ء سے 2013ء کے دوران مجموعی طور پر 206 ملین ڈالر (تقریباّ 21 ارب پاکستانی روپے) خرچ کرچکے ہیں
 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں اسلام کا خوف اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں 74 گروپ مصروف ہیں جو 2008ء سے 2013ء کے دوران مجموعی طور پر 206 ملین ڈالر (تقریباّ 21 ارب پاکستانی روپے) خرچ کرچکے ہیں

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


اگر 911 کے واقعات کے بعد امريکی حکومت کا مقصد امريکہ ميں مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی تفريق کرنا، انھيں محدود کرنا يا ان کے خلاف کوئ مہم جوئ کرنا ہوتا – جيسا کہ کچھ تبصرہ نگاروں نے دعوی کيا ہے تو پھر آپ اس بات کی کيا توجيہہ پيش کريں گے کہ گزشتہ ايک دہائ کے دوران امريکہ بھر ميں مسجدوں کی تعمير کے عمل ميں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔


يہ حقيقت ان اعداد وشمار کی روشنی ميں عياں ہے جو ايک ايسے سروے ميں پيش کيے گۓ ہيں جو کونسل آن امريکن اسلامک ريليشنز، اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امريکہ اور ہارٹفورڈ انسٹيٹيوٹ فار ريليجن ريسرچ کے تعاون سے مرتب کيا گيا ہے۔


اس سروے کے مطابق امريکہ ميں کل 2106 مساجد ہيں جو سال 2000 کے اعداد وشمار کے مقابلے ميں 74 فيصد زيادہ ہيں جب مساجد کی کل تعداد 1209 تھی۔ اس کے علاوہ اس سروے ميں يہ بھی واضح کيا گيا کہ پہلے کے مقابلے ميں امريکہ ميں بسنے والے مسلمان اب زيادہ امريکی معاشرے اور طرز زندگی ميں اپنی جگہ بنا رہے ہيں۔


اس سروے کے ايک مصنف اور يونيورسٹی آف کينٹکی ميں اسلامک اسٹڈيز کے پروفيسر احسان باغبی کا کہنا ہے کہ امريکہ ميں مسلمان کميونٹی نا صرف يہ کہ بڑھ رہی ہے بلکہ يہ پہلے سے زيادہ متحرک اور فعال ہونے کے ساتھ ساتھ امريکی طرز معاشرت ميں بآسانی زم بھی ہو رہی ہے۔


سال 2010 ميں مساجد کی جو گنتی کی گئ اس کے مطابق





States with the Greatest Number of Mosques






1


New York:


257




2


California:


246




3


Texas:


166




4


Florida:


118




5


Illinois:


109




5


New Jersey:


109




7


Pennsylvania:


99




8


Michigan:


77




9


Georgia:


69




10


Virginia:


62








سال 2000 ميں کيے جانے والے سروے ميں مساجد کے سرکردہ قائدين کی اکثريت کا يہ خيال تھا کہ امريکی معاشرہ اسلام کے خلاف متعصب اور جارحانہ سوچ رکھتا ہے ليکن اب صرف ايک چوتھائ ليڈر ايسا سمجھتے ہيں۔


باغبی نے ايک انٹرويو ميں کہا کہ "911 کے واقعات کے بعد مساجد عمومی طور پر کميونٹی کی توجہ کا مرکز بن گئيں۔ اور اس تجربے – بلکہ مقامی سطح پر ہمسايوں اور گرجاگروں سميت ديگر مذاہب کے مختلف گروہوں کے ساتھ ميل جول کے اس مثـبت تجربے نے ہمدردی اور رواداری کی ايک فضا قائم کر دی۔


ہارٹ فورڈ انسٹيٹيوٹ کے ڈيوڈ روزن کے مطابق اسلام شايد اس وقت امريکہ ميں سب سے زيادہ تيزی سے پھيلنے والا مذہب ہے۔


کچھ راۓ دہندگان کے ليے يہ سہل ہے کہ وہ جانب داری پر مبنی غلط تاثر کی بنياد پر کہانياں تخليق کريں اور اپنی يکطرفہ سوچ کا اظہار کريں۔ ليکن حقيقت يہ ہے کہ اعداد وشمار کی روشنی ميں يہ واضح ہے کہ امريکہ ميں مسلمان اور مذہب اسلام کسی بھی لحاظ سے زير عتاب نہيں ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
روڈے آئی لینڈ میں مسجدالکریم کو ایک دھمکی آمیز خط بھیجا گیا جس میں مسلمانوں کو گندہ پلیت اور ذلیل کہا گیا تھا اس سے مسلمان اتنے خوفزدہ ہوگئے انہوں نے پولیس کا تحفظ مانگا۔42 سال پرانی یہ مسجد اکیلی نہیں ہے جس کے خلاف دھمکی دی گئی ہے ۔ خط ملنے کا یہ واقعہ امریکہ میں پچھلے سال ہوئے مسلم مخالف تعصب کے 2,213واقعات میں سے ایک ہے ۔ یہ بات کونسل برائے امریکہ اسلامی تعلقات کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2016 ان واقعات میں 57 فی کا اضافہ ہوا ہے 2015 میں 1409 واقعات ہوئے تھے اور 2014 سے 2015 کے درمیان ان میں 5 فی صد اضافہ ہوا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم اور نومبر کے الیکشن میں ان کی غیر متوقع جیت سے پہلے ہی مسلم مخالف واقعات میں کافی اضافہ ہوگیا تھا۔بعد میں تعصب کے واقعات میں اضافہ کی ایک وجہ ٹرمپ کی جنگجو اسلامی تنظیموں پر توجہ اور تارکین وطن کے خلاف بیانات دیں۔روڈے جزیرے کی سب کی سب سے پرانی مسجد کو تو محض دھمکی دی گئی ہے جبکہ فلوریڈا اور ٹیکساس کی مساجد کو تو آگ ہی لگادی گئی۔ تاہم مسجد کے بورڈ کے ایک رکن فیصل انصاری نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیوں سے بہت پریشانی ہے ۔ انہوں نے کہا صرف دھمکی سننا اور اسے دیکھنا ایک جیسا نہیں ہوتا یقیناً یہ پریشان کن ہے ۔2014 میں جب مشرق وسطی میں داعش کے حملے بڑھے اور اس گروپ سے تحریک پاکر یوروپ اور امریکہ میں بھی حملے کئے گئے تو اس کے ردعمل میں مساجد پر حملے بڑھے اور شکایات میں بھی اضافہ ہوا جس کے بعد مسلم کونسل نے ہر تین ماہ پر ان حملوں کے بارے میں رپورٹیں تیار کرنی شروع کردیں ۔مسلمانوں کے خوف کی نگرانی اور اس سے نمٹنے والے محکمہ کے ڈائریکٹر کو ر نے سیلر نے کہا کہ عام خیال ہے کہ جس طرح 11 ستمبر کے حملوں کے بعد مسلم مخالف جذبات کی لہر آئی تھی اسی طرح کے حالات اب پیدا ہوگئے ہیں ۔تعصب برتنے کے واقعات مختلف قسم کے ہیں جن میں حملے سڑکوں پر لوگوں کو ہراساں کرنا ، ملازمت میں امتیاز یا ایف بی آئی کی جانب سے خواہ مخواہ پوچھ تاچھ۔مسلم مخالف نفرت انگیز جرائم بھی بڑھے ہیں۔ 2016 میں ایسے 260 واقعات ہوئے جبکہ ایک سال قبل 180 ایسے واقعات ہوئے تھے یعنی ان میں 44 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یہ صرف وہ واقعات ہیں جن کی رپورٹ کی گئی ہے ۔کونسل کے وکیل ایک ایک واقعہ کا اچھی طرح تجزیہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عہد کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگادیں گے تاکہ یہاں مسلم جنگجوؤں کے حملے روکے جاسکیں
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک کے باشندوں پر سفری پابندیوں کے متنازع فیصلے کی حمایت کے بعد امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ریاست میں داخلی راستوں کے تمام پورٹس پر پابندی کے اطلاق کا حکم جاری کردیا۔
امریکا کی کمیٹی برائے مہاجرین اور پناہ گزین کی چیف ایگزیکٹو اور صدر لاوینا لیمون نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اس فیصلے نے لوگوں کو مجروح کیا ہے اور اس حوالے سے بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں‘۔
 
Top