امریکا کی جانب سے لیبیا کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے

  • Work-from-home

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
امریکا کی جانب سے لیبیا کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے ، ایک برطانوی اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک معاون سباستیان گورکا نے ایک یورپی سفارتکار کے ساتھ ملاقات میں انہیں منصوبے کی بنیادی باتوں سے آگاہ کر دیا۔




، رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے معاون نے کاغذ پر نقشہ کھینچ کر یورپی سفارتکار کو بتایا کہ منصوبے کے مطابق لیبیا کو تقسیم کرنے کیلئے دولت عثمانیہ کے دور کے تین مختلف علاقوں کی سرحدوں کو بنیاد بنایا جائے گا۔

، واضح رہے کہ سباستیان گورکا ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے لیبیا بننے کی کوشش کررہے ہیں، وہ خود کو ‘‘ انتہا پسندانہ اسلام ’’ کا مخالف قرار دیتے ہیں ، یاد رہے کہ امریکا کی مداخلت سے 2011 میں لیبیا کے سابق حکمراں معمر قدافی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، اس کے بعد لیبیا میں استحکام قائم نہیں ہو سکا ہے ۔

، دریں اثنا برطانوی روزنامہ سے گفتگو کرتے ہوئے بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا لیبیا کو تین حصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وہاں تقسیم شدہ تینوں حصوں کے درمیان تیل کے وسائل کیلئے سرحدی جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ –​
 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
یاد رہے کہ امریکا کی مداخلت سے 2011 میں لیبیا کے سابق حکمراں معمر قدافی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، اس کے بعد لیبیا میں استحکام قائم نہیں ہو سکا ہے ۔
–​


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


جہاں تک ليبيا کا تعلق ہے تو يہ امريکی فوجی يا حکومت نہيں تھی جس نے وہاں کے شہريوں کو مجبور کيا تھا کہ وہ اپنے جابر آمر اور حکمران کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔


بين لاقوامی برادری نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو موقع فراہم کيا تھا کہ وہ اپنے شہریوں پر حملے کرنا بند کر دے۔ ليکن اس نے يہ موقع کھو ديا ۔ اس کی فورسز نے ظالمانہ کاروائياں جاری رکھیں۔ جس کی وجہ سے ليبيا کے لوگوں کو شديد خطرات کا سامنا تھا۔ اس لیے نيٹو کی جانب سے جو اقدامات اٹھاۓ گۓ وہ اقدامات لیبیا کے عام شہریوں کو قذافی کی حکومت اور خود ان کے الفاظ کے مطابق ايک بڑے انسانی سانحے سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزير ہو گۓ تھے.


يہ الزام کہ امريکی حکومت مشرق وسطی ميں بے جا مداخلت کر کے تشدد کے واقعات کا سبب بن رہی ہے، بالکل غلط اور نا قابل فہم ہے کيونکہ امريکی فوج تو محض مقامی حکومتوں کی دہشت گردوں کی سرکوبی کے ليے جاری کاوشوں کے ضمن ميں مدد فراہم کر رہی ہے۔ امريکہ ايک وسيع اتحاد کا ممبر رکن ہے جو عراق اور شام ميں اجتماعی طور پر داعش کے دہشتگردوں اور اسد کی جابر حکومت کے ہاتھوں زير عتاب عام شہريوں کو بربريت پر مبنی کاروائيوں سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے.


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ










 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


جہاں تک ليبيا کا تعلق ہے تو يہ امريکی فوجی يا حکومت نہيں تھی جس نے وہاں کے شہريوں کو مجبور کيا تھا کہ وہ اپنے جابر آمر اور حکمران کے مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔


بين لاقوامی برادری نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کو موقع فراہم کيا تھا کہ وہ اپنے شہریوں پر حملے کرنا بند کر دے۔ ليکن اس نے يہ موقع کھو ديا ۔ اس کی فورسز نے ظالمانہ کاروائياں جاری رکھیں۔ جس کی وجہ سے ليبيا کے لوگوں کو شديد خطرات کا سامنا تھا۔ اس لیے نيٹو کی جانب سے جو اقدامات اٹھاۓ گۓ وہ اقدامات لیبیا کے عام شہریوں کو قذافی کی حکومت اور خود ان کے الفاظ کے مطابق ايک بڑے انسانی سانحے سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزير ہو گۓ تھے.


يہ الزام کہ امريکی حکومت مشرق وسطی ميں بے جا مداخلت کر کے تشدد کے واقعات کا سبب بن رہی ہے، بالکل غلط اور نا قابل فہم ہے کيونکہ امريکی فوج تو محض مقامی حکومتوں کی دہشت گردوں کی سرکوبی کے ليے جاری کاوشوں کے ضمن ميں مدد فراہم کر رہی ہے۔ امريکہ ايک وسيع اتحاد کا ممبر رکن ہے جو عراق اور شام ميں اجتماعی طور پر داعش کے دہشتگردوں اور اسد کی جابر حکومت کے ہاتھوں زير عتاب عام شہريوں کو بربريت پر مبنی کاروائيوں سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے.


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu


https://www.instagram.com/doturdu/


https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/




 
Last edited:

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
امریکہ کا کردار ہمیشہ سے منفی رہا
یہ تمام بیانات حقیقت سے بالا تر ہیں
امریکہ اپنے کردار کو کہیں بھی واضح نہ کر سکا




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


يہ سوچ درست نہيں ہے کہ امريکہ ہميشہ نت نئ جنگيں شروع کرنے کے ليے بے چين رہتا ہے۔ اگر سفارتی کاری کی بجاۓ جنگيں ہی ہماری ترجيح ہوتيں تو پھرامريکہ دنيا کے مختلف علاقوں ميں انسانی ہمدردی کی بنياد پر جاری مختلف منصوبوں کی مد ميں اپنے وسائل مختص کرنے والے ممالک کی لسٹ ميں سرفہرست نہيں ہوتا۔


افغانستان اور عراق ميں امريکی فوجی کاروائياں کا محرک مبينہ طور پر اپنی مرضی مسلط کرنے يا علاقوں کو فتح کرنا نہيں تھا۔ اگر ايسا ہوتا تو پھر ہميں سرکردہ اسلامی ممالک سميت عالمی برادری کی حمايت اور تعاون حاصل نہيں ہوتا


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ








 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
میرے بھائی آپ میری سوچ کی بجائے حقیقت پر ایک نظر کیوں نہیں ڈالتے
پوری دنیا خاص طور پر اسلامی ممالک کو امریکہ نے میدان جنگ بنا دیا ہے
اور جن سرکردہ اسلامی ممالک سميت عالمی برادری کی حمايت اور تعاون
کی آپ بات کرتے ہیں وہ بھی اب ایک ایک کر کے پیچھے ہٹ رہے ہیں بشمول پاکستان

 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
میرے بھائی آپ میری سوچ کی بجائے حقیقت پر ایک نظر کیوں نہیں ڈالتے
پوری دنیا خاص طور پر اسلامی ممالک کو امریکہ نے میدان جنگ بنا دیا ہے
اور جن سرکردہ اسلامی ممالک سميت عالمی برادری کی حمايت اور تعاون
کی آپ بات کرتے ہیں وہ بھی اب ایک ایک کر کے پیچھے ہٹ رہے ہیں بشمول پاکستان



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


خطے ميں امريکی کاوشيں دہشت گردی کی اس وبا کے خاتمے کے ليے کی جانے والی عالمی کاوشوں کا حصہ ہيں جو داعش کے قاتلوں نے پورے خطے ميں پھيلا رکھی ہے۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ داعش کو بغير کسی رکاوٹ اور مزاحمت کے پورے خطے ميں اپنے اثرات پھيلانے کی اجازت دينا ايسا قابل قبول "حل" ہے جس کے بعد عام مسلمانوں کی زندگيوں ميں امن آ جاۓ گا؟


يہ نا بھوليں کہ امريکہ سميت عالمی اتحاد کی جانب سے جو عسکری امداد فراہم کی جا رہی ہے، وہ مقامی فريقین پر زبردستی مسلط نہيں کی جا رہی ہے۔ حقيقت اس سے کوسوں دور ہے۔ عراقی حکومت سميت خطے کے اسٹريجک اتحادی جن ميں کئ سرکردہ اسلامی ممالک کی حکومتيں بھی شامل ہيں، امريکہ سميت عالمی برادری سے بھرپور مدد کی اپيل کرتی رہی ہيں تا کہ پورے خطے ميں داعش کے بڑھتے ہوۓ اثرات کو روکا جا سکے۔






فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118

اور جن سرکردہ اسلامی ممالک سميت عالمی برادری کی حمايت اور تعاون
کی آپ بات کرتے ہیں وہ بھی اب ایک ایک کر کے پیچھے ہٹ رہے ہیں بشمول پاکستان




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


بصد احترام، آپ کو اپنی معلومات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ يہ امريکی اور نيٹو افواج نہيں ہيں جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہيں۔ خود کو بہترين مسلمان ظاہر کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں کے سرسری تجزيے سے ہی يہ حقيقت واضح ہو جاتی ہے کہ عام شہريوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی بہتری ان کے ايجنڈے اور ترجيحات ميں شامل نہيں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تشدد پسند دہشت گرد گروپوں کی تمام تر کاوشوں کا بنيادی مقصد بغیر کسی تفريق کے زيادہ سے زيادہ شہريوں کا قتل ہے اور اسی مقصد کے ليے اپنے حملوں کو زيادہ "موثر" بنانے کے ليے وہ عوامی مقامات کا انتخاب کرتے ہیں۔


جہاں تک آپ کی راۓ اور اس کی بنيادی اساس کا تعلق ہے تو ميں واضح کر دوں کہ دہشت گردی کے ايشو اور اس کے خلاف ساری مہذب دنيا کے متفقہ سخت موقف کی وجہ وہ بنيادی انسانی فطری جذبہ ہے جو جرم کے بعد انصاف کا متلاشی اور متمنی ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ اور تمام سرکردہ مسلم ممالک نے القائدہ، داعش اور ديگر دہشت گرد گروہوں کے خونی فلسفے کو اس ليے نہيں مسترد کيا تھا تا کہ امريکہ کو خوش کيا جا سکے بلکہ اس کے پيچھے يہ سوچ اور خواہش موجود تھی کہ اپنے شہريوں کی حفاظت کو يقيی بنانے کے ليے دہشت گردوں کو واضح پيغام ديا جاۓ کہ مذہب اور سياسی ايجنڈے کی آڑ ميں تشدد اور دہشت گردی کوفروغ دينے کی اجازت نہيں دی جا سکتی۔


ہمارا اصل مقصد اور ايجنڈا عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانا اور خطے ميں اپنے اتحاديوں، مقامی عہديداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سپورٹ سے دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہنچانا ہے۔ چونکہ ہم صرف ان گروپوں اور افراد کے خلاف ہيں جو کہ خطے میں تمام فريقين کے ليے يکساں خطرہ ہيں، يہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان اور افغانستان کی جمہوری حکومتوں سميت اپنے تمام اتحاديوں کا تعاون حاصل ہے۔


کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ہميں اقوام متحدہ اور سعودی عرب سميت تمام اہم اسلامی ممالک کی حمايت حاصل ہوتی اگر دہشت گردوں کے خلاف ہماری مشترکہ کاوشوں کے حوالے سے تحفظات اور ابہام پايا جاتا يا پھر بعض راۓ دہندگان کے غلط تاثر کے مطابق ہمارا واحد مقصد اور ارادہ محض مسلمانوں کو ختم کرنا ہوتا؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


بصد احترام، آپ کو اپنی معلومات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ يہ امريکی اور نيٹو افواج نہيں ہيں جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہيں۔ خود کو بہترين مسلمان ظاہر کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں کے سرسری تجزيے سے ہی يہ حقيقت واضح ہو جاتی ہے کہ عام شہريوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی بہتری ان کے ايجنڈے اور ترجيحات ميں شامل نہيں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس تشدد پسند دہشت گرد گروپوں کی تمام تر کاوشوں کا بنيادی مقصد بغیر کسی تفريق کے زيادہ سے زيادہ شہريوں کا قتل ہے اور اسی مقصد کے ليے اپنے حملوں کو زيادہ "موثر" بنانے کے ليے وہ عوامی مقامات کا انتخاب کرتے ہیں۔


جہاں تک آپ کی راۓ اور اس کی بنيادی اساس کا تعلق ہے تو ميں واضح کر دوں کہ دہشت گردی کے ايشو اور اس کے خلاف ساری مہذب دنيا کے متفقہ سخت موقف کی وجہ وہ بنيادی انسانی فطری جذبہ ہے جو جرم کے بعد انصاف کا متلاشی اور متمنی ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ اور تمام سرکردہ مسلم ممالک نے القائدہ، داعش اور ديگر دہشت گرد گروہوں کے خونی فلسفے کو اس ليے نہيں مسترد کيا تھا تا کہ امريکہ کو خوش کيا جا سکے بلکہ اس کے پيچھے يہ سوچ اور خواہش موجود تھی کہ اپنے شہريوں کی حفاظت کو يقيی بنانے کے ليے دہشت گردوں کو واضح پيغام ديا جاۓ کہ مذہب اور سياسی ايجنڈے کی آڑ ميں تشدد اور دہشت گردی کوفروغ دينے کی اجازت نہيں دی جا سکتی۔


ہمارا اصل مقصد اور ايجنڈا عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانا اور خطے ميں اپنے اتحاديوں، مقامی عہديداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سپورٹ سے دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہنچانا ہے۔ چونکہ ہم صرف ان گروپوں اور افراد کے خلاف ہيں جو کہ خطے میں تمام فريقين کے ليے يکساں خطرہ ہيں، يہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان اور افغانستان کی جمہوری حکومتوں سميت اپنے تمام اتحاديوں کا تعاون حاصل ہے۔


کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ہميں اقوام متحدہ اور سعودی عرب سميت تمام اہم اسلامی ممالک کی حمايت حاصل ہوتی اگر دہشت گردوں کے خلاف ہماری مشترکہ کاوشوں کے حوالے سے تحفظات اور ابہام پايا جاتا يا پھر بعض راۓ دہندگان کے غلط تاثر کے مطابق ہمارا واحد مقصد اور ارادہ محض مسلمانوں کو ختم کرنا ہوتا؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu


https://www.instagram.com/doturdu/


https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

محترم یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے
یہ بات بھی واضح ہے کہ قدرتی وسائل تک رسائی ہی انکا دیرینہ مقصد ہے
اگر فقط انسانیت کے ناطے ہوتا تو کشمیر اور فلسطین پر بھی
افغانستان اور عراق کی طرز پر کارروائی ہوتی جہاں قتال کا گراف سب سے اونچا ہے

 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
محترم یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




آپ نے يہ بالکل درست کہا ہے کہ امريکی حکومت اپنے شہريوں کے مفادات کو مقدم سمجھتی ہے اور يہی ان کے نزديک سب سے اہم مقصد ہے۔


دنيا ميں کسی بھی ملک کی طرح امريکی حکومتی عہديداروں کو بھی بحثيت مجموعی اس بات کا مينڈيٹ ديا جاتا ہے کہ وہ اپنے شہريوں کے مفادات کا تحفظ کريں، ان کی زندگيوں کو محفوظ بنائيں اور عالمی سطح پر ترقی کے مواقع فراہم کريں۔ يہ نا تو کوئ خفيہ ايجنڈا ہے اور نا ہی کو پيچيدہ سازش۔ يہ عالمی سطح پر ايک تسليم شدہ حقيقت ہے کہ منتخب حکومتيں اپنے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔


ليکن اس ضمن ميں ميرا ايک سوال ہے۔ امريکی عوام کے مفادات کے ليے بہتر کيا ہے؟ زيادہ سے سے زيادہ دوست بنانا جو مختلف سطحوں پر رائج خليج کو پار کر کے ايسے مواقع پيدا کريں جس سے باہم مفادات کے معاملات کو حل کيا جا سکے يا دانستہ امريکہ سے نفرت کو پروان چڑھا کر زيادہ سے زيادہ دشمن تيار کرنا بہتر لائحہ عمل ہے؟


کونسا طريقہ کار دانش کے اصولوں سے ميل کھاتا ہے اور امريکی مفادات کے تحفظ کے ہمارے تسليم شدہ مقصد کے قريب تر لے کے جا سکتا ہے؟


دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118

یہ بات بھی واضح ہے کہ قدرتی وسائل تک رسائی ہی انکا دیرینہ مقصد ہے




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






تيل پر قبضے کی امريکی سازشيں




يہ وہ نقطہ ہے جس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ آپ نے بھی جس راۓ کا اظہار کيا ہے اس کا لب لباب بھی يہی ہے کہ عراق پر حملہ بلکہ افغان جنگ کو بھی عراق کے تیل پر امريکی قبضے کی ايک عالمگير سازش قرار ديا جانا چاہيے۔ ستم ظريفی ديکھيں کہ يہ تاثر بھی ديا جاتا ہے کہ امريکہ حکومت کے صدام حسين کے ساتھ دیرينہ تعلقات رہے ھيں۔ اور پھر يہ دليل بھی دی جاتی ہے کہ امريکہ نے عراق پر تيل کے ليے حملہ کيا۔ اگر امریکہ کے صدام کے ساتھ تعلقات اتنے ہی ديرينہ تھے تو اسےاربوں ڈالرز کی لاگت سے جنگ شروع کر کے اپنے ہزاروں فوجی جھونکنے کی کيا ضرورت تھی۔ امريکہ کے ليے تو آسان راستہ يہ ہوتا کہ وہ صدام کے توسط سے تيل کی درآمد کے معاہدے کرتا۔




اس حوالے سے ميں نے يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے جو اعداد وشمار حاصل کيے ہيں وہ آپ کے سامنے رکھ کر ميں فيصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ سچ کيا ہے اور افسانہ کيا ہے۔


سال 2006


ميں ہاورڈ ميگزين نے ايک تحقيقی کالم لکھا جس کی رو سے عراق جنگ پر امريکہ کے مالی اخراجات کا کل تخمينہ 2 ٹرلين ڈالرز لگايا گيا ہے۔ اگر ان اخراجات کا مقابلہ عراق ميں تيل کی مجموعی پیداوار سے لگايا جاۓ تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ عراق پر امریکی حکومت کے اخراجات عراق کی مجموعی پيداوار سے کہيں زيادہ ہيں۔ لہذا معاشی اعتبار سے يہ دليل کہ عراق پر حملہ تيل کے ليے کيا گيا تھا، بے وزن ثابت ہو جاتی ہے۔ ہاورڈ ميگزين کے اس آرٹيکل کا ويب لنک پيش کر رہا ہوں-







ايک اور تاثر جو کہ بہت عام ہے اور اس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا جاتا ہے وہ يہ ہے کہ امريکہ میں تيل کے استعمال کا مکمل دارومدار عرب ممالک سے برامد کردہ تيل کے اوپر ہے لہذا امريکی حکومت عرب ممالک اور اس کی حکومتوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ اعداد وشمار پيش خدمت ہيں۔




امریکہ اس وقت دنيا ميں تيل کی مجموعی پيداوار کے حساب سے تيسرے نمبر پر ہے۔ 1973 سے 2007 تک کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی ضروريات کا 57 فيصد حصہ خود پورا کيا ہے۔ باقی 43 فيصد ميں سے صرف 8 فيصد تيل کا استعمال گلف ممالک کے تيل پر منحصر ہے۔ مغربی ممالک سے تيل کے استعمال کا 20 فيصد حصہ پورا کيا جاتا ہے اور 15 فيصد تيل کی ضروريات توانائ کے ديگر ذرائع سے پوری کی گئ۔








جہاں تک تيل کی درآمد کا تعلق ہے تو 1973 سے 2007 کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی درآمد کا 47 فيصد حصہ مغربی ممالک سے درآمد کيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 20 فيصد ہے۔ اسی عرصے ميں 34 فيصد افريقہ، يورپ اور سابق سوويت يونين سے درآمد کيا گيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 15 فيصد بنتا ہے۔ گلف ممالک سے درآمد کردہ تيل کا تناسب صرف 19 فيصد رہا جو کہ مجموعی استعمال کا محض 8 فيصد ہے۔










اسی حوالے سے اگر آپ دنيا کے ديگر ممالک کا گلف مما لک کے تيل پر انحصار اور اس حوالے سے اعدادوشمار ديکھیں تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ جاپان امريکہ کے مقابلے ميں گلف ممالک کے تيل پر کہيں زيادہ انحصار کرتا ہے۔ 1992 سے 2006 کے درميانی عرصے ميں جاپان نے اوسطا 65 سے 80 فيصد تيل گلف ممالک سے درآمد کيا۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کے مقابلہ ميں جاپان کا گلف ممالک پر انحصار بتدريج بڑھا ہے۔ مندرجہ ذيل گراف سے يہ بات واضح ہے کہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کا گلف ممالک کے تيل پر انحصار مسلسل کم ہوا ہے۔








يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امريکی حکومت بذات خود تيل کی خريدوفروخت کے عمل ميں فريق نہيں ہوتی۔ بلکہ امريکہ کی نجی کمپنياں اپنے صارفين کی ضروريات کے تناسب سے سروس فراہم کرتی ہيں۔ امريکی کمپنياں انٹرنيشنل مارکيٹ ميں متعين کردہ نرخوں پر عراق سے تيل درآمد کرتی ہيں جو کہ عراق سے برآمد کيے جانے والے مجموعی تيل کا محض ايک چوتھائ حصہ ہے۔ باقی ماندہ تيل عراقی حکومت کی زير نگرانی ميں نا صرف دوسرے ممالک ميں برآمد کيا جاتا ہے بلکہ عراق کی مجموعی توانائ کی ضروريات پوری کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ عراق تيل کے توسط سے ماہانہ 2 بلين ڈالرز سے زيادہ کا زرمبادلہ حاصل کرتاہے۔




ان اعداد وشمار کی روشنی ميں يہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ يہ تاثر دينا کہ امريکہ عراق ميں تيل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پيرا ہے يا امريکہ تيل کی سپلائ کے ليے سارا دارومدار عرب ممالک کے تيل پر کرتا ہے قطعی بے بنياد اور حقيقت سے روگردانی کے مترادف ہے۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ





 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
اگر فقط انسانیت کے ناطے ہوتا تو کشمیر اور فلسطین پر بھی
افغانستان اور عراق کی طرز پر کارروائی ہوتی جہاں قتال کا گراف سب سے اونچا ہے




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


کشمير اور فلسطين سميت ديگر علاقائ اور عالمی تنازعات اور دہشت گردی کی موجودہ لہر ميں اہم ترين فرق يہ ہے کہ تمام عالمی برادری بشمول پاکستان کے اس حقيقت کا ادارک بھی رکھتی ہے اور اس کو تسليم بھی کرتی ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی عفريت ہے جس کا خاتمہ تمام فريقین کے ليے اہم ہے۔ اس کے مقابلے ميں ديگر تنازعات میں فریقين کے مابين اختلافی موقف اور نقطہ نظر کا ٹکراؤ ہے۔


اس میں کوئ شک نہیں کہ فلسطين کے مسلۓ اور اس کے نتيجے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ہلاکت امريکہ سميت تمام عالمی برادری کے ليے ايک لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس مسلۓ کے حوالے سے بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ تنازعے کو حل کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ہم تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں ختم کرا کر خطے ميں پائيدار امن کے ليے ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ اس حوالے سے ہماری پوزيشن اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔


ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اسرائيل سميت دنيا کی کسی بھی ملک کی فوج يا اس کی جانب سے کسی قسم کی عسکری کاروائ کی ذمہ دار نہيں ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
2 tok jawab dejiye mere bhai

American iraq or afghanistan ke awam ko tahaffuz de sakta hai palistine aur kashmeer ke awam ko kyun nahi?
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ








تيل پر قبضے کی امريکی سازشيں





يہ وہ نقطہ ہے جس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ آپ نے بھی جس راۓ کا اظہار کيا ہے اس کا لب لباب بھی يہی ہے کہ عراق پر حملہ بلکہ افغان جنگ کو بھی عراق کے تیل پر امريکی قبضے کی ايک عالمگير سازش قرار ديا جانا چاہيے۔ ستم ظريفی ديکھيں کہ يہ تاثر بھی ديا جاتا ہے کہ امريکہ حکومت کے صدام حسين کے ساتھ دیرينہ تعلقات رہے ھيں۔ اور پھر يہ دليل بھی دی جاتی ہے کہ امريکہ نے عراق پر تيل کے ليے حملہ کيا۔ اگر امریکہ کے صدام کے ساتھ تعلقات اتنے ہی ديرينہ تھے تو اسےاربوں ڈالرز کی لاگت سے جنگ شروع کر کے اپنے ہزاروں فوجی جھونکنے کی کيا ضرورت تھی۔ امريکہ کے ليے تو آسان راستہ يہ ہوتا کہ وہ صدام کے توسط سے تيل کی درآمد کے معاہدے کرتا۔





اس حوالے سے ميں نے يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے جو اعداد وشمار حاصل کيے ہيں وہ آپ کے سامنے رکھ کر ميں فيصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں کہ سچ کيا ہے اور افسانہ کيا ہے۔


سال 2006


ميں ہاورڈ ميگزين نے ايک تحقيقی کالم لکھا جس کی رو سے عراق جنگ پر امريکہ کے مالی اخراجات کا کل تخمينہ 2 ٹرلين ڈالرز لگايا گيا ہے۔ اگر ان اخراجات کا مقابلہ عراق ميں تيل کی مجموعی پیداوار سے لگايا جاۓ تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ عراق پر امریکی حکومت کے اخراجات عراق کی مجموعی پيداوار سے کہيں زيادہ ہيں۔ لہذا معاشی اعتبار سے يہ دليل کہ عراق پر حملہ تيل کے ليے کيا گيا تھا، بے وزن ثابت ہو جاتی ہے۔ ہاورڈ ميگزين کے اس آرٹيکل کا ويب لنک پيش کر رہا ہوں-





harvardmagazine.com/2006/05/the-2-trillion-war.html




ايک اور تاثر جو کہ بہت عام ہے اور اس کو بنياد بنا کر پاکستانی ميڈيا ميں بہت کچھ لکھا جاتا ہے وہ يہ ہے کہ امريکہ میں تيل کے استعمال کا مکمل دارومدار عرب ممالک سے برامد کردہ تيل کے اوپر ہے لہذا امريکی حکومت عرب ممالک اور اس کی حکومتوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ اعداد وشمار پيش خدمت ہيں۔





امریکہ اس وقت دنيا ميں تيل کی مجموعی پيداوار کے حساب سے تيسرے نمبر پر ہے۔ 1973 سے 2007 تک کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی ضروريات کا 57 فيصد حصہ خود پورا کيا ہے۔ باقی 43 فيصد ميں سے صرف 8 فيصد تيل کا استعمال گلف ممالک کے تيل پر منحصر ہے۔ مغربی ممالک سے تيل کے استعمال کا 20 فيصد حصہ پورا کيا جاتا ہے اور 15 فيصد تيل کی ضروريات توانائ کے ديگر ذرائع سے پوری کی گئ۔










جہاں تک تيل کی درآمد کا تعلق ہے تو 1973 سے 2007 کے درميانی عرصے ميں امريکہ نے تيل کی مجموعی درآمد کا 47 فيصد حصہ مغربی ممالک سے درآمد کيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 20 فيصد ہے۔ اسی عرصے ميں 34 فيصد افريقہ، يورپ اور سابق سوويت يونين سے درآمد کيا گيا جو کہ امريکہ ميں تيل کے استعمال کا 15 فيصد بنتا ہے۔ گلف ممالک سے درآمد کردہ تيل کا تناسب صرف 19 فيصد رہا جو کہ مجموعی استعمال کا محض 8 فيصد ہے۔














اسی حوالے سے اگر آپ دنيا کے ديگر ممالک کا گلف مما لک کے تيل پر انحصار اور اس حوالے سے اعدادوشمار ديکھیں تو يہ حقيقت سامنے آتی ہے کہ جاپان امريکہ کے مقابلے ميں گلف ممالک کے تيل پر کہيں زيادہ انحصار کرتا ہے۔ 1992 سے 2006 کے درميانی عرصے ميں جاپان نے اوسطا 65 سے 80 فيصد تيل گلف ممالک سے درآمد کيا۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کے مقابلہ ميں جاپان کا گلف ممالک پر انحصار بتدريج بڑھا ہے۔ مندرجہ ذيل گراف سے يہ بات واضح ہے کہ گزشتہ چند سالوں ميں امريکہ کا گلف ممالک کے تيل پر انحصار مسلسل کم ہوا ہے۔










يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امريکی حکومت بذات خود تيل کی خريدوفروخت کے عمل ميں فريق نہيں ہوتی۔ بلکہ امريکہ کی نجی کمپنياں اپنے صارفين کی ضروريات کے تناسب سے سروس فراہم کرتی ہيں۔ امريکی کمپنياں انٹرنيشنل مارکيٹ ميں متعين کردہ نرخوں پر عراق سے تيل درآمد کرتی ہيں جو کہ عراق سے برآمد کيے جانے والے مجموعی تيل کا محض ايک چوتھائ حصہ ہے۔ باقی ماندہ تيل عراقی حکومت کی زير نگرانی ميں نا صرف دوسرے ممالک ميں برآمد کيا جاتا ہے بلکہ عراق کی مجموعی توانائ کی ضروريات پوری کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ عراق تيل کے توسط سے ماہانہ 2 بلين ڈالرز سے زيادہ کا زرمبادلہ حاصل کرتاہے۔





ان اعداد وشمار کی روشنی ميں يہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ يہ تاثر دينا کہ امريکہ عراق ميں تيل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر عمل پيرا ہے يا امريکہ تيل کی سپلائ کے ليے سارا دارومدار عرب ممالک کے تيل پر کرتا ہے قطعی بے بنياد اور حقيقت سے روگردانی کے مترادف ہے۔




فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ





[email protected]




www.state.gov




http://www.facebook.com/USDOTUrdu

Nazar to Qudrati wasaail par thi warna Iraq par mukammal qabiz hone ke baad dunya ko american ne wo kemyai hathyaar nahi dikhaye jin keliye yeh jang ki gai

Kiya wo hathyar Sadam ke sath america ke qabze main chale aye
ye wo hathyar thy hi nahi jis keliye yeh poora drama kiya gia
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
Qudarati wawaail ke liye shuru ki hoi jang America ke Halaq main phans gai hai kyun keh wo isay tar nawala samjha tha aur ab america jang ke akhrajat ki waja se tabahi ki janib gamzan hai kyun keh jang kisi bhi masle ka hal nahi raha kabhi bhi.
 

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
Nazar to Qudrati wasaail par thi warna Iraq par mukammal qabiz hone ke baad dunya ko american ne wo kemyai hathyaar nahi dikhaye jin keliye yeh jang ki gai

Kiya wo hathyar Sadam ke sath america ke qabze main chale aye
ye wo hathyar thy hi nahi jis keliye yeh poora drama kiya gia





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کا موقف ميں پہلے بھی فورمز پر پيش کيا جا چکا ہے۔

اس حوالے سے يہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ اگر سال 2003 ميں امريکی حملے سے پہلے عراق کی صورت حال اور اس پر عالمی راۓ عامہ کا جائزہ ليں تو يہ واضح ہے کہ عالمی برداری اور بالخصوص امريکہ پر صدام حسين کی جانب سے عراقی عوام پر ڈھاۓ جانے والے مظالم پر خاموشی اور مناسب کاروائ نہ کرنے پر مسلسل شديد تنقيد کی جاتی رہی ہے۔ کئ غير جانب دار تنظيموں کی جانب سے ايسی بے شمار رپورٹس ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں عراقی عوام پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کی داستانيں رقم ہیں۔

جب ڈبليو – ايم – ڈی کا معاملہ دنيا کے سامنے آيا تو صدام حسين نے اس ضمن ميں تعاون اور عالمی برداری کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے سوالات کا جواب دينے سے صاف انکار کر ديا۔ يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ 911 کے واقعات کے بعد کسی بڑی دہشت گردی کی کاروائ کوئ غير حقيقی يا ناقابل يقين بات نہيں تھی۔

يہ درست ہے کہ امريکہ کی جانب سے عراق ميں کاروائ کی بڑی وجہ ڈبليو – ايم – ڈی ايشو کے حوالے سے امريکہ کے تحفظات تھے۔ يہ بھی درست ہے کہ ڈبليو – ايم – ڈی کے حوالے سے انٹيلی جينس غلط ثابت ہوئ۔ ليکن انٹيلی جينس رپورٹس کی ناکامی کسی بھی صورت ميں صدام حسين کو "معصوم" ثابت نہيں کرتيں۔ صدام حسين ايک ظالم حکمران تھا جس کی حکومت عراق کے ہمسايہ ممالک سميت خود عراق کے اندر بے شمار انسانوں کی موت کا سبب بنی۔

امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوۓ۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بلکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔

اس ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کے علاوہ ديگر ممالک کو جو مسلسل رپورٹس ملی تھيں اس ميں اس بات کے واضح اشارے تھے کہ صدام حسين مہلک ہتھياروں کی تياری کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدام حسين کا ماضی کا ريکارڈ بھی امريکی حکام کے خدشات ميں اضافہ کر رہا تھا۔ نجف، ہلہ،ہلاجہ اور سليمانيہ ميں صدام کے ہاتھوں کيميائ ہتھیاروں کے ذريعے ہزاروں عراقيوں کا قتل اور 1991 ميں کويت پر عراقی قبضے سے يہ بات ثابت تھی کہ اگر صدام حسين کی دسترس ميں مہلک ہتھياروں کا ذخيرہ آگيا تواس کے ظلم کی داستان مزيد طويل ہو جاۓ گی۔ خود صدام حسين کی جانب سے مہلک ہتھياروں کو استعمال کرنے کی دھمکی ريکارڈ پر موجود ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ اور ديگر ممالک کے خدشات ميں مزيد اضافہ ہو گيا۔

سال 1995
ميں جب صدام حسين کے داماد حسين کمل نے عراق سے بھاگ کرجارڈن ميں پناہ لی تو انھوں نے بھی صدام حسين کے نيوکلير اور کيميائ ہتھياروں کے حصول کے ليے منصوبوں سے حکام کو آگاہ کيا۔ 2003 ميں امريکی حملے سے قبل اقوام متحدہ کی سيکيورٹی کونسل عراق کو مہلک ہتھياروں کی تياری سے روکنے کے ليے اپنی کوششوں کا آغاز کر چکی تھی۔

يہی وجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کئ تحقيقی ٹيموں کو عراق ميں داخلے سے روک ديا گيا تو نہ صرف امريکہ بلکہ کئ انٹرنيشنل ٹيموں کی يہ مشترکہ رپورٹ تھی کہ صدام حکومت کا وجود علاقے کے امن کے ليے خطرہ ہے۔





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ






 
  • Like
Reactions: Untamed-Heart
Top