ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو

  • Work-from-home

AnadiL

••●∂ιѕαѕтєя●••
VIP
Nov 24, 2012
72,912
23,236
1,313
ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو
ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو
خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو
روشنی کا یہ مسافر ہےرہِ جاں کا نہیں
اپنے سائے سے بھی ہونے لگی وحشت ہم کو
آنکھ اب کس سے تحیر کا تماشہ مانگے
اپنے ہونے پہ بھی ہوتی نہیں حیرت ہم کو
اب کے اُمید کے شعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں
جانے کس موڑ پہ لے آئی محبت ہم کو
کون سی رُت ہے زمانے ، ہمیں کیا معلوم
اپنے دامن میں لئے پھرتی ہے حسرت ہم کو
زخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شاید نہ بھرے
ہجر میں ایسی ملی اب کے مسافت ہم کو
داغِ عصیاں تو کسی طور نہ چھپتے امجد
ڈھانپ لیتی نہ اگر چادرِ رحمت ہم کو
 
Top