بہادر نوجوان

  • Work-from-home

*Sonu*

•°o.O Born to Fly O.o°•
VIP
Mar 5, 2010
46,172
11,604
1,313
دوستو۔۔۔۔آج ہم آپ کو ايک بہادر نوجوان کا قصہ سناتے ہيں، ان کا نام تھا سلمہ بن اکوع رضي اللہ عنہ، يہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے صحابي تھے، بڑے چسٹ اور پھر تيلے تھے، تير اندازي ميں بھي بڑے ماہر تھے۔
ايک دفعہ عجيب حادثہ ہوا، مدينہ منورھ سے باہر ايک جنگل تھا جسے غابہ کہتے تھے، وہاں رسول پاک صلي اللہ عليہ وسلم کي اونٹنياں چرا کرتي تھي، کافر ڈاکوؤں نے وہاں ہملہ کيا، اونٹنيوں کے چرواہے کو قتل کرديا اور اونٹنياں اپنے ساتھ لے گئے، يہ سب کچھ رات کے آخري پھر ميں طلوع سحر کے قريب ہوا۔
حضرت سملہ بن اکوع رضي اللہ عنہ تير کمان لئے ہوئے صبح کي اذان سے پہلے اسي جنگل کي طرف جا رہے تھے کہ کسي نے ان کو حادثہ کي اطلاع ي، حضرت سملہ رضي اللہ عنہ فورا ايک پہاڑ پر چڑہ گئے اور مدينہ کي طرف منہ کرکے زور سے اعلان کيا کہ
ڈاکہ پڑ گيا ہے مدد کيلئے جلدي آؤ۔
يہ اعلان کرکے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ خود اکيلے ان کافروں کے پيچھے دوڑے اور جلد ہي ان کے قريب پہنچ گئے اور ان پر تير برسانے شروع کئے اور ساتھ ساتھ نعرہ لگارہے تھے، ان ابن الاکوع، اليوم يوم الرضع
ميں ابن اکوع ہوں، آج تمہيں چھٹي کا دودھ ياد آئے گا۔
حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کا نشانہ بے خطا تھا، جس کافر کو لگتا زخمي يا ہلاک ہو کر گر پڑتا، پہلے تو کافر يہ سمجھتے رہے کہ بہت سارے مسلمان ہمارے پيچھے لگے ہوئے ہيں اور تير چلا رہے ہيں اس لئے وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے،مگر بعد ميں ان کو اندازہ ہوگيا، کہ يہ ايک اکيلا لڑکا ہے جو ہميں پريشان کئے ہوئے ہے، ان کافروں نے کئي بار کو شش کي کے پلٹ کہ حملہ کريں اور ان کو پکڑ ليں مگر جو ں ہي کوئي کافر گھوڑا موڑ کر ان کي طرف آتا يہ کسي درخت يا پتھر کے پيچہے چھپ جاتے اور تير مار کر اس کے گھوڑے کو زخمي کر ديتے وہ اپني جان بچانے کيلے واپس بھاگ جاتا۔
حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے دير تک ان کا تعاقب کيا، کافر اتنے بد حواس ہوئے کہ حضور کي لوٹي ھوئي اونٹنياں بھي پيچھے چھوڑ ديں اور جان بچا کر تيزي سے بھاگنے کيلئے اپنے سامان سفر اور زائد ہتھيار کے بوجھ سے بھي آزاد ہوتے گئے، تيس چادريں، اور تيس نيزے انہوں نے راستے ميں پھينکے اور بھاگتے چلے گئے۔
آگے چل کر ان کافرون کي ايک اور جماعت مدد کيلئے مل گئي، اب ان کي جان ميں جان آئي اور سب نے مل کر حضرت سلمہ رضي اللہ کو گھيرنے کي کوشش کي، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ ايک پہاڑ پر چڑہ گئے اور للکارا کر کہا
ميں ابن اکوع ہوں قسم ہے اس ذات کي جس نے حضرت محمد صلي اللہ وسلم کو عزت دي ہے تم ميں سے کوئي مجھے نہيں پکڑ سکتا ہے اور ميں جس کو چاہوں پکڑ سکتا ہوں۔
وہ لوگ گھبرا کر رک گئے، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے ان لوگوں کو باتوں ميں لگائے رکھا، تاکہ مدينہ سے مسلمانوں کي مدد آجائے، چناچہ کچھ دير بعد دور سے صحابہ کرام رضي اللہ تعالي عنہم کا ايک دستہ گھوڑوں پر سور آتا دکھائي ديا۔
ان کے ميدان ميں پہنچتے ہي لڑائي شروع ہوگئي،کچھ دير بعد کافروں کا سردار مارا گيا باقي کافر بہاگ نکلے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ ايک بار پھر ان کے پيچھے دوڑے، دير تک ان کا پيچھا کرتے رہے يہاں تک کہ شام ہوگئي، بھاگنے والے کافر ايک تالاب کے پاس رک گئے تاکہ پاني پي ليں، مگر جب حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کو آتے ديکھا تو خوف کے مارے برا حال ہوگيا، پاني پئيے بغير بھاگ کھڑے ہوئے۔
ان ميں سے ايک آدمي ذرا پيچھے رہ گيا، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے دوڑتے دوڑتے ايک پہاڑي گھاٹي ميں اس کا جاليا اور تير چلاتے ہوئے نعرہ لگايا۔
ميں ابن اکوع ہوں، ذليل لوگوں کي ہلاکت کا دن ہے۔
تير اس کے کندھےسے پار ہوگيا اور وھ تکليف سے چلاتا ہوا بولا ارے تو وہي صبح والا اب اکوع ہے ابھي تک ہمارے پيچھے لگا ہوا ہے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے جواب ديا ہاں اپني جان کے دشمن ميں وہي صبح والا ابن اکوع ہوں۔
اس کے بعد حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے کافروں کے دو گھوڑے اپنے قبضے ميں لئے اور حضور اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کي خدمت ميں حاضر ہوئے ديکھا کہ کافر جو اونٹنياں چادريں اور نيزے چھوڑ گئے تھے صحابہ کرام نے ان کو جمع کرليا ہے، حضرت بلال رضي اللہ تعالي عنہ ايک اونٹني صبح کرکے اس کي کليجي اور کوھان بھون رہے تھے تاکہ خضور صلي اللہ وسلم نوش فرمائيں۔
حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت ميں عرض کيا سو آدمي ميرے ساتھ کرديں تو ميں دشمنوں کا مزيد تعاقب کرکے ان کو ختم کدروں گا، حضور نبي کريم کو اس کم عمر جانثار کي جرائت اور ہمت پر بہ حد خوشي ہوئي آپ صلي اللہ عليہ وسلم ہنس دئيے اور فرمايا اب مزيد تعاقب کي ضرورت نہيں وہلوگ اپنے قبائل ميں پہنچ گئے ہيں۔
رات بھر آرام کرکے صبح جب مدينہ منورہ کي طرف واپسي ہوئي تو حضور نبي اکرم نے حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ ک ويہ اعزاز عطا کيا کہ ان کو اپنے ساتھ اپني اونٹني پر بٹھاليا، حضرت سلمہ رضي اللہ عنہ کيلئے اس سے بڑہ کر خوشي کي بات بھلا اور کيا ہوسکتي تھي۔
ديکھا دوستوں ايک تنہا نوجوان نے کتنے کافرون کو مار بہگيا ايسي جرائت اور ہمت اسي کو نچيب ہوتي ہے جو اللہ تعالي کا ہوجاتا ہے اور چرف اورع چرف اللہ تعالي ہي سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالي کي نافرماني سے بچتا ہے پھر اسے دنيا کي کسي طاقت کا خوف نہيں رہتا ہے بلکہ ساري دنيا اس سے ڈرتي ہے۔
 
Top