تعلقاتِ انسانی

Angela

Senior Member
Apr 29, 2019
980
607
143
♡~Dasht e Tanhayi~♡
....jpg

جلیل ازہر
بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت موت ہے اور انسانی تعلقات کی سب سے بڑی حقیقت ان کی نازکی، کمزوری اور ناپائیداری ہے۔ انسانی رشتوں پہ غور کرتا ہوں تو عجیب سا احساس ہوتا ہے کیونکہ انسانی رشتے لوہے سے زیادہ مضبوط بھی ہوتے ہیں اور شیشے سے زیادہ نازک بھی یعنی نہایت آسانی سے لمحوں کے لمحوں میں ٹوٹ جانے والے۔ اس دارالفنا میں ہر شے فنا ہوتی، اپنے رنگ بدلتی، مٹی میں ملتی اور پھر سے جنم لیتی ہے۔ درختوں کی ٹہنیوں پر سجے ہوئے خوبصورت پھول مرجھاتے اور پھر بکھر کر مٹی میں مل جاتے ہیں اور پھر اِسی مٹی کی زرخیزی سے اْسی پودے کی ٹہنیاں اْسی طرح کے خوبصورت پھولوں سے بھر اور سج جاتی ہیں۔ ہم اْن کی خوبصورتی سے متاثر ہوتے اور اْن کے حسن سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں لیکن ان کی نازکی، غیر پائیداری اور فانی ہونے پر غور نہیں کرتے۔ مرجھاتے پھول، درختوں سے گرتے خزاں رسیدہ پتے اور فکر و قدرت کے ان گنت مظاہر ہمیں یہ راز سمجھاتے اور پیغام دیتے ہیں کہ دنیا میں کسی شے کو بھی بقا نہیں، کسی کو بھی دوام نہیں لیکن انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ زندگی کے نشے میں مست اور گم رہتا ہے اور قدرت کے بدلتے رنگوں اور پْرفریب انداز پر غور نہیں کرتا حالانکہ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ خود انسان بھی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
اِسی طرح انسانی رشتے، انسانی تعلقات بھی رنگ و انداز بدلتے رہتے ہیں۔ دوستی اور تعلق مضبوط ہو تو لوہے سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے، لوگ یک جان دو قالب ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھے بغیر اور آواز سنے بغیر چین نہیں آتا اور پھر محض ایک ذرا سی بات پہ یوں بچھڑتے ہیں جیسے ایک دوسرے کو جانتے نہیں، پہچانتے نہیں۔ سچ ہے کہ زبان نہایت ہلکی اور بے وزن شے ہے لیکن اِس سے نکلا ہوا لفظ اتنا بھاری اور خنجر کی دھار کی مانند تیز ہوتا ہے کہ اْسے بڑے بڑے سخت جان اور طاقتور پہلوان بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ میں نے فقروں کی چٹانوں کے نیچے انسانوں کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا ہے، لفظوں کی تلوار سے انسانوں کو لہو لہان ہوتے دیکھا ہے، وقت، اقتدار، دولت، شہرت، اقتدار کی قربت اور اہمیت کی خود فریبی سے لوگوں کو بدلتے اور نئے روپ دھارتے دیکھا ہے، دہائیوں اور برسوں پرانی دوستی و دیرینہ تعلقات اور خونی رشتوں کو ٹوٹتے بھی دیکھا ہے، فاصلوں کا شکار ہوتے بھی دیکھا ہے، محبت کی گرمی کو سرد مہری میں بدلتے بھی دیکھا ہے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں بسنے والوں کو ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے بھی دیکھا ہے اور محبت کے رشتوں کو، خون کے بندھنوں کو دشمنی میں بدلتے بھی دیکھا ہے۔ اِسی لئے عرض کرتا ہوں کہ انسانی تعلقات اور انسانی رشتوں سے زیادہ کوئی شے نہ پائیدار، کمزور اور نازک نہیں۔ ہاں وہ رشتے لوہے سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جن میں ایثار پایا جاتا ہے۔ ایثار وسیع تر معنوں اور مفہوم میں، ایثار وسیع ظرف، قدرو منزلت، برداشت، بے لوث چاہت کے معنوں میں۔ چونکہ میرا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ اکثر رشتے اور تعلقات انا کے ٹکراؤ اور انا کے باہمی تصادم سے ٹوٹتے ہیں۔ اختلاف، غلط فہمی، بدمزگی یا تلفی کی صورت میں معذرت کر لی جائے تو عام طور پر معاملہ صاف ہو جاتا ہے، دل چاہے صاف ہو یا نہ ہو۔ اسی لئے وسیع النظری کی بات کرتا ہوں کہ اگر ظرف وسیع ہے تو معذرت کے بعد دل بھی صاف ہو جاتا ہے اور قلب کے آئینے میں ابھرنے والا بال یا لکیر بھی نکل جاتی ہے لیکن اگر انسان بہت بڑی انا کا اسیر ہے، انا کی وسیع سلطنت کا بے تاج بادشاہ ہے تو اس کے لئے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کی عزت اور بے عزتی اور اپنی ذات کی عظمت کے پیمانے اور معیار اس قدر بلند ہوتے ہیں کہ وہ عام طور پر ایثار کے نور سے محروم ہوتا ہے، برداشت اور معاف کرنے کے جذبات سے عاری ہوتا ہے چنانچہ وہ انتقام لئے بغیر سکون نہیں پاتا، نہ چین سے بیٹھتا ہے۔ اسی انا کو صوفی نفس امارہ کہتے ہیں کیونکہ نفس امارہ انسان کو انتقام پہ ابھارتا اور معاف کرنے کی خصلت سے محروم کر دیتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ زیادتی کے بعد معذرت کرنے سے انسان کی عزت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معذرت کرنے والا انسان اپنے تعلقات اور رشتوں کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ میرے نزدیک جو انسان معذرت کی خوبی سے محروم ہو وہ سخت دل ہوتا ہے، سخت دل انسان اپنی فطرت میں سنگ دل ہی نہیں ظالم بھی ہوتا ہے۔ ظلم صرف کسی کو قتل کرنا ہی نہیں، کسی کو مارنا پیٹنا مجروح کرنا یا کسی کا خون بہانا ہی نہیں بلکہ کسی کے جذبات پر ہتھوڑے چلانا، کسی کو ذلیل و رسوا کرنا، تمسخر اڑانا اور بہتان لگانا بھی ظلم ہی ہے۔ کچھ مظالم کی سزا اگلے جہان میں ملے گی اور کچھ کا حساب اپنی زندگی ہی میں بے باق ہو جاتا ہے۔ میری آنکھیں ان مناظر کی شاہد ہیں۔
میں نے عام طور پر رشتوں کو اناؤں کے تصادم میں ٹوٹتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔ ضد انا کی سلطنت کا ایک اہم ستون ہے۔ ضد عقل کل کے زعم سے جنم لیتی ہے۔ عقل کل کے زعم، وہم، گمان اور حسن ظن میں وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جنہیں خوشامدی اور درباری اس فریب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ مستقبل پر یقین اللہ تعالیٰ کے کرم سے جنم لے تو رحمت ہے لیکن اگر اپنی ذات کی صفات کا شاخسانہ ہو تو جہالت ہے۔ انسان بے شمار ڈگریوں کے حصول کے باوجود جاہل ہو سکتا ہے کیونکہ ہر وہ انسان جو دنیاوی علوم کا ماہر ہو لیکن فطرت کے سادہ اور عام قوانین سے نابلد اور نا آشنا ہو، جاہل کہلانے کا حق دار ہے اور اس کا علم اسے بہکا دیتا ہے، پٹڑی سے اتار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں کوئی سائنسدان کائنات کو مسخر کرتا ہے، ایجادات کے ذریعے قدرت کے راز سمجھتا اور فاش کرتا ہے، توں توں فطرت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح جوں جوں کوئی فلاسفر یا شاعر کائنات کی بلندیوں اور عظمتوں کا سفر کرتا ہے، غوروفکر سے عقدے اور گرہیں کھولتا ہے، انسانی فطرت یا باطن کے سمندر میں اترتا ہے اور ظاہر میں پنہاں سچائیوں کا سراغ لگاتا ہے، وہ قدرت اور فطرت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو علم اس راہ پر نہیں چلاتا، فطرت پر غور و فکر کے دریچے نہیں کھولتا، وہ علم نہیں بلکہ وہ کتابوں اور معلومات کا بوجھ ہے، جسے وہ اٹھائے پھرتا ہے اور عالم وفاضل ہونے کے زعم میں مبتلا رہتا ہے۔
ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ انسانی رشتے اور انسانی تعلقات نازک ترین شے ہیں اور انہیں مضبوط بنانے، قائم رکھنے اور نبھانے کے لیے ایثار پہلی شرط ہے۔ جب دونوں طرف اَناؤں کا راج ہو، ضد کی حکمرانی ہو اور صرف خود کو سچا سمجھنے اور عقلِ کل ہونے کا یقین ہو تو تعلقات اور رشتے اناؤں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایثار دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی کنجی ہے۔
رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے تعلق میں ہمیشگی کو ملحوظ رکھنا، ان کی مدد و خیرخواہی کرنا، ان کی غمی خوشی اور دکھ درد میں شریک ہونا، تقاریب و تہواروں میں انہیں مدعو کرنا، ان کی دعوتوں میں شرکت کرنا اور اس طرح کے چند امور صلہ رحمی میں شامل ہیں۔
صلہ رحمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رشتے داروں سے ان کے رویے کے مطابق سلوک کیا جائے، اگر ایسا کیا جائے تو یہ درحقیقت مکافات یعنی ادلا بدلا ہے کہ کسی رشتے دار نے تحفہ بھیجا تو اس کے بدلے تحفہ بھیج دیا، وہ آیا تو بدلے میں اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتًا صلہ رحمی یہ ہے کہ رشتے دار تعلق توڑنا چاہے تو اس تعلق کو بچانے کی کوشش کی جائے، وہ جدائی چاہئے، بے اعتنائی برتے تب بھی اس کے حقوق و مراعات کا خیال رکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ چْکائے، بلکہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑ دے۔

بخاری، کتاب الادب، باب لیس الواصل بالمکافی، 4: 98، رقم الحدیث: 5991
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم لوگ ایک دوسرے کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو۔
درج بالا احادیثِ مبارکہ سے صلہ رحمی کا یہی مفہوم واضح ہوتا ہے کہ رشتے داروں کے برے سلوک کے باوجود صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، جب وہ محروم کریں تب بھی انہیں عطا کیا جائے، وہ ظلم کریں تو معاف کیا جائے۔ اگر رشتہ دار روٹھیں، قطع تعلقی اختیار کرنا چاہیں، بول چال بند کر دیں تو خود ان کے پاس جاکر انہیں منایا جائے۔ یقینا یہ رویہ نفس پر بہت گراں ہے اور شیطان ہمیشہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر ایسا کرنے میں رکاوٹ بنا رہے گا مگر ان اعمال کا اجر خدا کے حضور بہت بڑا ہے۔ صلہ رحمی کا حکم اس اصرار اور اہتمام کے ساتھ دینے کا سبب بھی یہی ہے کہ اس پر حقیقی روح کے ساتھ عمل کرنے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ احادیث بیان فرما رہے تھے، اس دوران فرمایا:
’ہر قاطِع رِحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اْٹھ جائے۔‘ ایک نوجوان اْٹھ کر اپنی پھوپھی کے ہاں گیا جس سے اْس کا کئی سال پْرانا جھگڑا تھا، جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو گئے تو اْس نوجوان سے پْھوپھینے کہا :تم جا کر اس کا سبب پوچھو، آخر ایسا کیوں ہوا؟ (یعنی حضرت ابوہریرہ کے اعلان کی کیا حکمت ہے؟) نوجوان نے حاضر ہو کر جب پوچھا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ: ’جس مجلس میں قاطِع رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اْس قوم پر اللہ کی رحمت کا نزول نہیں ہوتا۔‘

اَلزَّواجِرْ عَنِ اقتِرافِ الکبائِر، ج: 2، ص: 351
خلاصہ کلام یہ ہے کہ صلہ رحمی ہر مسلمان پر واجب ہے۔ رشتے داروں کی بے اعتنائی، ناشکری اور زیادتی کے باوجود ان سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، تاہم قرآن و سنت کے احکام کی روشنی میں قطع رحمی کرنے والے رشتے داروں کے متعلق تین طرح کے رویے ہوسکتے ہیں:
(1) کوئی رشتے دار اگر زیادتی کرے تو زیادتی کا بدلہ لے لیا جائے، تعلقات منقطع نہ کیے جائیں مگر میل جول بھی نہ رکھا جائے۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو سلام دعا کرنے کی صورت باقی رہے۔
(2) ایسے رشتے دار کے ساتھ صرف غمی اور خوشی کا تعلق رکھا جائے اور عام حالات میں اس سے میل ملاقات نہ رکھی جائے۔ تاہم اگر کوئی شدید ضرورت سامنے آجائے تو اس کی مدد سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
(3) ایسے رشتے داروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کیا جائے اور ان سے حسن سلوک اور مہربانی کا برتاؤ جاری رکھا جائے۔
ان میں سے پہلا رویہ اختیار کرنے پر انسان گناہ گار نہیں ہوگا، دوسرے رویے کا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کے مواقع ضائع نہیں ہوں گے اور تیسرا رویہ احسان کا ہے جو فضیلت کا باعث ہے۔ اللہ کی رضا زیادہ زیادہ حاصل کرنا پیش نظر ہو تو اسی تیسرے کو اختیار کرنا چاہئے
 
  • Like
Reactions: ROHAAN
Top