حال کُھلتا نہیں جبینوں سے

  • Work-from-home

Aks_

~ ʍɑno BɨLii ~
Hot Shot
Aug 2, 2012
44,916
17,651
1,113
حال کُھلتا نہیں جبینوں سے
رنج اُٹھائے ہیں کن قرینوں سے
رات آہستہ گام اُتری ہے
درد کے ماہتاب زینوں سے
ہم نے سوچا نہ اُس نے جانا ہے
دل بھی ہوتے ہیں آبگینوں سے
کون لے گا شرارِ جاں کا حساب
دشتِ امروز کے دفینوں سے
تو نے مژگاں اُٹھا کے دیکھا بھی
شہر خالی نہ تھا مکینوں سے
آشنا آشنا پیام آئے
اجنبی اجنبی زمینوں سے
جی کو آرام آ گیا ہے اداؔ
کبھی طوفاں، کبھی سفینوں سے
 
Top