حضرت خديجہ تاريخ کے آئينہ ميں

  • Work-from-home

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
حضرت خديجہ تاريخ کے آئينہ ميں


حضرت خديجہ کا شمار تاريخ انسانيت کي ان عظيم خواتين ميں ھوتاھے جنھوں نے انسانيت کي بقاء اور انسانوں کي فلاح و بھبود کے لئے اپني زندگي قربان کر دي ـ
تاريخ بشريت گواہ ھے کہ جب سے اس زمين پر آثار حيات مرتب ھونا شروع ھوئے اور وجود اپني حيات کے مراحل سے گزر تا ھوا انسان کي صورت ميں ظھور پذير ھوا اور ابوالبشر حضرت آدم عليہ السلام اولين نمونہ انسانيت اور خلافت الھيہ کے عھدہ دار بن کر روئے زمين پر وارد ھوئے اور پھر آپکے بعد سے ھر مصلح بشريت جس نے انسانيت کے عروج اور انسانوں کي فلاح و بھبود کيلئے اسکو اسکے خالق حقيقي سے متعارف کرانے کي کوشش کي،کسي نہ کسي صورت ميںاپنے دور کے خودپرست افراد کي سر کشي اور انانيت کا سامنا کرتے ھوئے مصائب وآلام سے دوچار ھوتا رھا دوسري طرف تاريخ کے صفحات پران مصلحين بشريت کے کچہ ھمدردوںاور جانثاروںکے نام بھي نظر آتے ھيںجو ھر قدم پر انسانيت کے سينہ سپر ھوگئے اور در حقيقت ان سرکش افراد کے مقابلے ميں ان ھمدرد اورمخلص افراد کي جانفشانيوںھي کے نتيجے ميں آج بشريت کا وجود برقرار ھے ورنہ ايک مصلح قوم يا ايک نبي يا ايک رسول کس طرح اتني بڑي جمعيت کا مقابلہ کرسکتا تھا جوھر آن اسکے در پئے آزارھويھي مٹھي بھر دوست اور فداکار تھے جنکے وجود سے مصلحين کے حوصلے پست نھيں ھونے پاتے تھےـ
مرور ايام کے ساتھ پرچم اسلام آدم (ع)و نوح (ع)و عيسيٰ وابراھيم عليھم السلام کے ھاتھوں سربلندي وعروج حاصل کرتا ھوا ھمارے رسول کے دست مبارک تک پھونچااورعرب کے ريگزار ميںآفتاب رسالت نے طلوع ھوکر ھر ذرہ کو رشک قمر بنا ديا،ھرطرف توحيد کے شاديانے بجنے لگے از زمين تا آسمان لا الھٰ الا اللهکي صدائيں باطل کے قلوب کو مرتعش کرنے لگيں ،محمد رسول الله کا شور دونوں عالم پر محيط ھوگيا اور تبليغ الٰھي کا آخري ذريعہ اور ھدايت بشري کے لئے آخري رسول رحمت بنکر عرب کے خشک صحرا پر چھاتا ھوا سارے عالم پر محيط ھوگيا دوسري طرف باطل کا پرچم شيطان ونمرود ،فرعون وشداد کے ھاتھوں سے گذرتا ھوا ابولھب ،ابو جھل اور ابوسفيان کے ناپاک ھاتھوں بلند ھونے کي ناپاک کاوشوں ميں مصروف ھوگيا ـرسول کے کلمہ توحيد کے جواب ميں ايذا رساني شروع ھوگئي اور حق وباطل کي طرح برسر پيکار ھوگئے ايسے عالم ميں کہ ايک طرف مکہ کے خاص وعام تھے اور دوسري طرف بظاھر ايک تنگ دست اور کم سن جوان جس کے اپنے اس کے مخالف ھو چکے تھے ـ ليکن پيغام الٰھي کي عظمت، مصائب کي کثرت پر غالب تھي اور ھر اذيت کے جواب ميں رسول الله کا جوش تبليغ اور زيادہ ھوتا جاتا تھا ـ
ايسے کسمپر سي کے عالم ميں جھاں ايک طرف آپکے چچا ابوطالب نے آپ کي ھر ممکنہ مدد کي وھيں دوسري طرف آپ کي پاک دامن زوجہ حضرت خديجہ نے آپ کي دلجوئي اور مدارات کے ذريعہ آپکو کفار مکہ سے پھچنے والي تمام تکاليف کو يکسرہ فراموش کرنے پرمجبورکرديا ـ حضرت خديجہ نے آپ کي زبان سے خبر بعثت سنتے ھي اٰمنا وصدقنا کھہ کر آپ کي رسالت کي پھلے ھي مرحلے ميں تائيد کردي ـجناب خديجہ کا يہ اقدام رسول اکرم کيلئے بھت حوصلہ افزاء ثابت ھوا ـآپکي اسي تائيد وتعاون کو رسول اکرم آپ کي وفات کے بعد بھي ياد فرماتے رھتے تھے اور اکثر وبيشتر آپ کي زبان اقدس پر حضرت خديجہ کا تذکرہ رھتا تھا

عائشہ نے جب آپ کے اس فعل پر اعتراض کرتے ھوئے کھا کہ خديجہ ايک ضعيفہ کے سوا کچہ نھيں تھي اور خدا نے آپ کو اس سے بھتر عطا کردي ھے (عائشہ کا اشارہ اپني طرف تھا )تو حضور ناراض ھو گئے

اور غضب کے عالمo ميں فرمايا کہ خدا کي قسم خدا نے مجھکو اس سے بھتر عطا نھيں کي وللٰہ لقد اٰمنت بي اذکفر الناس واٰوتيني اذرفضني الناس و صدقتني اذکذبني الناس

خدا کي قسم وہ (خديجہ )اس وقت مجھ پر ايمان لائي جب لوگ کفر اختيار کئے ھو ئے تھے اس نے مجھے اس وقت پنا ہ دي جب لوگوں نے مجھے ترک کرديا تھا اور اس نے ميري اس وقت تصديق و تائيد کي جب لوگ مجھے جھٹلا رھے تھےـ
خاندان و نام ونسب


شجر اسلام کي ابتدائي مراحل ميں آبياري کرنے والي اور وسطي مراحل ميں اس کي شاخوں کو نمو بخشنے والي يہ خاتون قريش کے اصيل و شريف گھرانے ميں پيد ا ھوئي ـروايات ميں آپ کي ولادت عام الفيل سے پندرہ سال قبل ذکر ھوئي اور بعض لوگوں نے اس سے کم بيان کيا ھے ـآپ کے والد خويلد ابن اسد بن عبد العزي بن قصي کا شمار عرب کے دانشمند وں ميں ھوتا تھا ـاور آپکي والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن رواحہ ھيں

آپ کا خاندان ايسے روحاني اور فداکار افراد پر مشتمل تھا جو خانہ کعبہ کي محفاظت کے عھد يدار تھے
ـ جس وقت بادشاہ يمن ”تبع “نے حجر اسود کو مسجد الحرام سے يمن منتقل کرنے کا ارادہ کيا تو حضرت خديجہ کے والد ذات تھي جنھوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کي جس کے نتيجہ ميں مجبور ھوکر ”تبع “کو اپنے ارادہ سے منصرف ھو نا پڑا

حضرت خديجہ کے جد اسد بن عبد العزي پيمان حلف الفضول کے ايک سرگرم رکن تھے يہ پيمان عرب کے بعض با صفا وعدالت خواہ افراد کے درميان ھو ا تھا جس ميں متفقہ طور پر يہ عھد کيا گيا تھا کہ مظلومين کي طرف سے دفاع کيا جائے گا اور خود رسول اکرم بھي اس پيمان ميں شريک تھے

”ورقہ بن نوفل “(حضرت خديجہ کے چچا زاد بھائي )عرب کے دانشمند ترين افراد ميں سے تھے اور انکا شمار ايسے افراد ميں ھوتا تھا جو بت پرستي کو نا پسند کرتے تھے ي

اور حضرت خديجہ کو چندين بار اپنے مطالعہ کتب عھدين کي بنا پر خبر دار کرچکے تھے کہ محمد اس امت کے نبي ھيں


خلاصہ يہ کہ اس عظيم المرتبت خاتون کے خاندان کے افراد، متفکر ،دانشمنداوردين ابراھيم کے پيرو تھے
ـ
تجارت


ايسے با عظمت افراد کي آغوش عاطفت کي پروردہ خاتون کي طبيعت ميں اپنے آبا و اجداد کي طرح رفق ودانشمندي کي آميزش تھي جس کے سبب آپ نے اپنے والد کے قتل کے بعد ان کي تجارت کو بطريقہ احسن سنبھال ليا اور اپنے متفکر اور زيرک ذھن کي بنا پر اپنے سرمايہ کوروز افزوں کرنا شروع کرديا ـ آپ کي تجارت با تجربہ اور با کردار افراد کے توسط سے عرب کے گوشہ وکنارتک پھيلي ھوئي تھي روايت کي گئي ھے کہ ”ھزاروں اونٹ آپ کے کار کنان تجارت کے قبضہ مين تھے جو مصر ،شام اور حبشہ جيسے ممالک کے اطراف ميں مصروف تجارت تھے“

جن کے ذريعہ آپ نے ثروت سرشار حاصل کر لي تھي
ـ
آپ کي تجارت ايسے افراد پر موقوف تھي جو بيرون مکہ جاکر اجرت پر تجارت کے فرائض انجام دے سکيں چنانچہ حضرت ختمي مرتبت کي ايمانداري ،شرافت ،اورديانت کے زير اثر حضرت خديجہ نے آپ کو اپني تجارت ميں شريک کرليا اور باھم قرار داد ھوئي اس تجارت ميں ھونے والے نفع اور ضرر ميں دونوں برابر شريک ھوں گے

اور بعض مورخين کے مطابق حضرت خديجہ نے آپ کو اجرت پر کاروان تجارت کا سربراہ مقرر کيا تھا
ـ

ليکن اس کے مقابل دوسري روايت ھے جس کے مطابق رسول الله اپني حيات ميں کسي کے اجير نھيں ھوئے
ـ

بھر کيف حضرت کاروان تجارت کے ھمراہ روانہ شام ھوئے حضرت خديجہ کا غلام ميرہ بھي آپ کے ساتھ تھا


بين راہ آپ سے کرامات سرزد ھوئيں اور راھب نے آپ ميں علائم نبوت کا مشاھدہ کيا اور ”ميسرہ“کوآپ کے نبي ھونے کي خبر دي
ـ

تمام تاجروں کو اس سفر ميں ھر مرتبہ سے زيادہ نفع ھوا جب يہ قافلہ مکہ واپس ھوا تو سب سے زيادہ نفع حاصل کرنے والي شخصيت خود پيام اکرم کي تھي جس نے خديجہ کو خوش حال کرديا اس کے علاوہ ميسرہ (غلام خديجہ )نے راستے ميں پيش آنےوالے واقعات بيان کئے جس سے حضرت خديجہ آنحضرت کي عظمت و شرافت سے متاثر ھوگئيں
ـ
ازدواج


حضرت خديجہ کي زندگي ميں برجستہ و درخشندہ ترين پھلو آپ کي حضرت رسالت مآب کے ساتھ ازدواج کي داستان ھے ـجيسا کہ سابقہ ذکر ھوا کہ ”حضرت خديجہ کي تجارت عرب کے ا طراف واکناف ميں پھيلي ھوئي تھي اور آپ کي دولت کا شھرہ تھا “ چنانچہ اس بنا پر قريش کے دولت مند طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد چندين بار پيغام ازدواج پيش کرچکے تھے ،ليکن جنکو زمانہ جاھليت ميں ”طاھرھ“کھا جاتاتھا
اپني پاکدامني اور عفت کي بنا پر سب کو جواب دے چکي تھيں ـحضرت جعفر مرتضيٰ عاملي تحرير فرماتے ھيں ”ولقد کانت خديجہ عليھا السلام من خيرة النساء القريش شرفا واکثر ھن مالا واحسنھن جمالا ويقال لھا سيدةالقريش وکل قومھا کان حريصا ًعلي الاقتران بھا لو يقدر عليھا
الصحيح من سيرة النبي الاعظم ج2/ص107)

”حضرت خديجہ قريش کي عورتوں ميں شرف و فضيلت ،دولت وثروت اور حسن وجمال کے اعتبار سے سب سے بلند و بالاتھيں اور آپ کو سيدہ قريش کھا جاتا تھا اور آپ کي قوم کا ھر افراد آپ سے رشتئہ ازدواج قائم کرنے کا خواھاں تھا“
حضرت خديجہ کو حبالئہ عقد ميں لانے کے متمني افراد ميں ”عقبہ ابن ابي معيط “”صلت ابن ابي يعاب “”ابوجھل “اور ”ابو سفيان “جيسے افراد تھے جن کوعرب کے دولتمند اورباحيثيت لوگوں ميں شمار کياجاتاتھا
ليکن حضرت خديجہ باوجود يکہ اپني خانداني اصالت ونجابت اورذاتي مال وثروت کي بناپر بے شمار ايسے افراد سے گھري ھوئي تھيں جو آپ سے ازدواج کے متمني اوربڑے بڑے مھرديکر اس رشتے کے قيام کوممکن بنانے کيلئے ھمہ وقت آمادہ تھے ھميشہ ازدواج سے کنارہ کشي کرتي رھتي تھيں ـکسي شريف اورصاحب کردار شخص کي تلاش ميں آپ کاوجود صحراء حيات ميں حيران وسرگرداں تھاـايسے عالم ميں جب عرب اقوام ميں شرافت وديانت کاخاتمہ ھوچکاتھا،خرافات وانحرافات لوگوں کے دلوں ميں رسوخ کرکے عقيدہ ومذھب کي شکل اختيار کرچکے تھے خود باعظمت زندگي گذارنااوراپنے لئے کسي اپنے ھي جيسے صاحب عزوشرف شوھر کاانتخاب کرناايک اھم اورمشکل مرحلہ تھا ،ايسے ماحول ميں جب صدق وصفاکافقدان تھاآپ کي نگاہ انتخاب رسول اکرم صلي الله عليہ وآلہ وسلم پر آکر ٹھھر گئي جن کي صداقت وديانت کاشھرہ تھا،حضرتخديجہ نے کم ظرف صاحبان دولت واقتتدار کے مقابلے ميں اعلي ظرف ،مجسمہ شرافت وديانت اورعظيم کردار کے حامل رسول کو جو بظاھر تنگ دست ،يتيم اوربے سھاراتھے ترجيح دے کر قيامت تک آنے والے جوانوں کو درس عمل دے دياکہ دولت وشھرت اوراقتدار کي شرافت ،عزت اور کردار کے سامنے کوئي حيثيت نھيں ھےـالمختصر برسر اقتدار افراد کومايوس کرنے والي ”خديجہ “نے باکمال شوق وعلاقہ ازطرف خود پيغام پيش کرديا
اورمھر بھي اپنے مال ميں قراردياجس پر حضرت ابوطالب نے خطبئہ نکاح پڑھنے کے بعد فرمايا”لوگوںگواہ رھنا“”خديجہ “نے خود کومحمدصلي الله عليہ وآلہ وسلم سے منسوب کيااورمھر بھي اپنے مال ميںقرار دياھے اس پربعض لوگوں نے ابوطالب عليہ السلام پرطنز کرتے ھوئے کھا ياعجباھ!المھر علي النساء للرجل (تعجب ھے مرد عورت کے مال سے مھر کي ادائيگي کرے )جس پرحضرت ابوطالب نے ناراضگي کااظھار کرتے ھوئے غضب کے عالم ميں فرمايا،”اذاکانوا مثل ابن اخي ھذاطلبت الرجل باغلي الاثمان وان کانوا امثالکم لم يزوجوا الابالمھر الفالي“

(اگرکوئي مردميرے اس بھتيجے کے مانند ھوگاتوعورت اس کوبڑے بھاري مھر دے کرحاصل کرينگي ليکن اگر وہ تمھاري طرح ھوا تواسکو خود گراںو بھاري مھر ديکر شادي کرناھوگي )ايک دوسري روايت کے مطابق حضرت نے اپنامھر (جو بيس بکرہ نقل ھواھے)خود ادا کياتھا

اور ايک روايت کے مطابق آپ کے مھر کي ذمہ داري حضرت علي نے قبول کرلي تھي ،حضرت کي عمر کے سلسلے ميں تمام مورخين کااس پراتفاق ھے کہ حضرت خديجہ سے آپ نے پھلي شادي 25/سال کي عمر ميںکي ليکن خود حضرت خديجہ کي عمر کے بارے ميںکثير اختلاف وارد ھواھے چنانچہ25،28،30/اور40سال تک بھت کثرت سے روايات وارد ھوئي ھيں

ليکن معروف ترين قول يہ ھے کہ آپ کي عمر شادي کے وقت 40سال تھيـ

آياحضرت خديجہ (ع)رسول سے قبل شادي شدہ تھيں ؟


اس مسئلہ ميں کہ آيارسول صلي الله عليہ وآلہ وسلم کے حبالہ عقد ميں آنے سے قبل حضرت خديجہ دوسرے افراد کے ساتھ بھي رشتہ مناکحت سے منسلک رھچکي تھيں يانھيں تاريخ کے مختلف اوراق پر متعدد راويوں کے اقوال ميں کثير اختلاف واقع ھواھے چنانچہ بعض راويوں کے نزديک رسول صلي الله عليہ وآلہ وسلم سے شادي کرنے سے قبل حضرت خديجہ شادي شدہ تھيں اور سابقہ شوھرو ں سے آپ کي اولاد يں بھي ھوئيں تھيںـ
تاريخ کے مطابق آپ کے سابق شوھروں کے نام بالترتيب ”عتيق بن عايذبن عبد اللهفخروي “اور”ابوھالہ تميمي“ھيں

اس کے علاوہ خود آنحضرت کے بارے ميں روايت وارد ھوئي ھے کہ ”عائشھ“کے علاوہ آپ نے کسي کنواري خاتون سے شادي نھيں کي تھي


ليکن يہ تمام روايات جويہ ثابت کرتي ھيں کہ حضرت خديجہ شادي شدہ تھيں اوررسول سے قبل بھي دوسرے کي شريک حيات رہ چکي تھيں ،دلائل اوردوسري روايات معتبرہ کي روشني ميں صحيح نظرنھيں آتيں ،بلکہ تمام تاريخ کوسياست کے ھاتھوں مسخ کئے جانے کي ناکام کوششوں ميںسے ايک کانتيجہ ھيں
 
Top