دربارِ نجاشی

  • Work-from-home

Sumi

TM Star
Sep 23, 2009
4,247
1,378
113
نجاشی:
حبشہ کے بادشاہ کا نام اصمحہ اور لقب نجاشی تھا۔ عیسائی دین کا پابند تھا مگر بہت ہی انصاف پسند اور رحم دل تھا۔ اور توراۃ و انجیل وغیرہ آسمانی کتابوں کا بہت ہی ماہر عالم تھا۔ اعلان نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی ان مہاجرین کے مقدس نام حسب ذیل ہیں۔
1- حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی بیوی حضرت رقیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ جو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔
2- حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی بیوی حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ۔
3- حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی اہلیہ ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ۔
4- حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی زوجہ حضرت لیلٰی بنت ابی حشمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ساتھ ۔
5- حضرت زبیر بن العلوم رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
6- حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
7- حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
8- حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
9- حضرت ابو سبرہ بن ابی رہم یا حاطب بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
10- حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
11- حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

( زرقانی علی الموایب ج1ص270 )
کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو ان ظالموں نے ان لوگوں کی گرفتاری کے لئے ان کا تعاقب کیا۔ لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی سر زمین میں اتر کر امن و امان کے ساتھ خدا کی عبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں کے بعد نا گہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آ کر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں روپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفار مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ واپس آنے والے، اور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی مرد، اور اٹھارہ عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ ( زرقانی علی الموایب ج1ص287 )


کفار کا سفیر نجاشی کے دربار میں* ::

تمام مہاجرین نہایت امن و سکون کے ساتھ حبشہ میں رہنے لگے ، مگر کفار مکہ کو کب گوارا ہوسکتا تھا کہ فرزندان توحید کہیں امن و چین کے ساتھ رہ سکیں ، ان ظالموں نے کچھ تحائف کے ساتھ عمر و بن العاص اور عمارہ بن ولید کو بادشاہ حبشہ کے دربار میں اپنا سفیر بناکر بھیجا ان دونوں نے نجاشی بادشاہ کے دربار میں پہنچ کر تحفوں کے نذرانہ پیش کیا اور بادشاہ کو سجدہ کرکے فریاد کرنے لگے کہ اے بادشاہ !*ہمارے کچھ مجرم مکہ سے بھاگ کر آپ کے ملک میں پناہ گزین ہوگئے ہیں ، آپ ہمارے ان مجرموں کو ہمارے حوالے کردیجیے یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں کو دربار طلب کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت جعفر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے نمائندہ بن کر گفتگو کے لئے آگے بڑھے اور دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا بلکہ صرف سلام کرکے کھڑے ہوگئے درباریوں نے ٹوکا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے اس لئے میں بادشاہ کو سجدہ نہیں کرسکتا ۔ ( زُرقانی علی المواہب جلد 1 صفحہ 288 )


حضرت جعفر بن ابی طالب کی تقریر :

اس کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دربار شاہی میں اس طرح تقریر شروع فرمائی کہ۔


“ اے بادشاہ ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے شرک و بت پرستی کرتے تھے لوٹ مار، چوری، ڈکیتی، ظلم و ستم اور طرح طرح کی بدکاریوں اور بد اعمالیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالٰی نے ہماری قوم میں ایک شخص کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ جس کے حسب و نسب اور صدیق و دیانت کو ہم پہلے سے جانتے تھے۔ اس رسول نے ہم کو شرک و بت پرستی سے روک دیا اور صرف خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیا اور ہر قسم کے ظلم و ستم اور تمام برائیوں اور بدکاریوں سے ہم کو منع کیا۔ ہم اس رسول پر ایمان لائے اور شرک و بت پرستی چھوڑ کر تمام برے کاموں سے تائب ہو گئے۔ بس یہی ہمارا گناہ ہے جس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہو گئی اور ان لوگوں نے ہمیں اتنا ستایا کہ ہم اپنے وطن کو خیر باد کہہ کر آپ کی سلطنت کے زیر سایہ پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں اب یہ لوگ ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم پھر اسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں۔“

نجاشی بادشاہ کا جوش ایمانی :

حضرت جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تقریر سے نجاشی بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔ یہ دیکھ کر کفار مکہ کے سفیر عمرو بن العاص نے اپنے ترکش کا آخری تیر بھی پھینک دیا اور کہا کہ اے بادشاہ ! یہ مسلمان لوگ آپ کے نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کچھ دوسرا ہی اعتقاد رکھتے ہیں جو آپ کے عقیدہ کے بالکل ہی خلاف ہے۔ یہ سن کر نجاشی بادشاہ نے حضرت جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے سورہ مریم کی تلاوت فرمائی۔ کلام ربانی کی تاثیر سے نجاشی بادشاہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ اس پر رقت طاری ہو گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہمارے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ہم کو یہی بتایا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو کنواری مریم کے شکم مبارک سے بغیر باپ کے خدا کی قدرت کا نشان بن کر پیدا ہوئے۔ نجاشی بادشاہ نے بڑے غور سے حضرت جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تقریر کو سنا اور یہ کہا کہ بلا شبہ انجیل اور قرآن دونوں ایک ہی آفتاب ہدایت کے دو نور ہیں اور یقیناً حضرت عیسٰی علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک حضرت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خدا کے وہی رسول ہیں جن کی بشارت حضرت عسیٰی علیہ السلام نے انجیل میں دی ہے اور اگر میں دستور سلطنت کے مطابق تخت شاہی پر رہنے کا پابند نہ ہوتا تو میں خود مکہ جا کر رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جوتیاں سیدھی کرتا اور ان کے قدم دھوتا بادشاہ کی تقریر سن کر اس کے درباری جو کٹر قسم کے عیسائی تھے۔ ناراض و برہم ہو گئے مگر نجاشی بادشاہ نے جوش ایمانی میں سب کو ڈانٹ پھٹکار کر خاموش کر دیا اور کفار مکہ کے تحفوں کو واپس لوٹا کر عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو دربار سے نکلوا دیا اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ تم لوگ میری سلطنت میں جہاں چاہو امن و سکون کے ساتھ آرام و چین کی زندگی بسر کرو کوئی تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ ( زرقانی ج1ص288 )
واضح رہے کہ نجاشی بادشاہ مسلمان ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس کے انتقال پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ حالانکہ نجاشی بادشاہ کا انتقال حبشہ میں ہوا تھا اور وہ حبشہ ہی میں مدفون بھی ہوئے مگر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے غائبانہ ان کی نماز جنازہ پڑھ کر ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔

</b>
 
  • Like
Reactions: nrbhayo
Top