غزل - 1

Nov 19, 2008
21
9
0
50
Chitral
رت بدلی دھرتی نیا روپ دھارنے کو ہے
گل کی ہنسی بلبل کا غم اتارنے کو ہے

کلیاں ہیں گویا نازنیں کے لب ملے ہوۓ
پیڑوں کے جھنڈ ہیں گیسو سنوارنے کو ہے

جادو سی اسکی چال میں وہ بحر کا سکوت
آنکھوں کے بیچ بھنور کو سدھارنے کو ہے

ماں سےزیادہ پیار ہے یزداں کو بشر سے
بھالے کو تولے فلک ہمیں مارنے کو ہے

اس پر ہے روک اور مجھے وحشی ڈراتے ہیں

یہ سب مزید شوق کے ابھارنے کو ہے۔​
 
  • Like
Reactions: RedRose64 and Don
Top