قابل فخر پاکستانی خواتین

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
پاکستان کی 6 خواتین نے نئی تاریخ رقم کردی
پاکستان کی چھ نوجوان خواتین کوہ پیماؤں نے پانچ ہزار تین سو میٹر بلند شفتین سرکی چوٹی شمال کی جانب سے سرکرکے نئی تاریخ رقم کردی۔
چھ طالبات پر مشتمل ٹیم نے پانچ ہزار تین سو میٹر بلند شفتین سرکی چوٹی کو شمال کی جانب سے سر کیا جو کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

[IMG]


ٹیم میں شامل تمام خواتین شمشال ماؤنٹینرنگ اسکول کی اسٹوڈنٹس ہیں۔ چوٹی سر کرنے والی خواتین نوجوان کوہ پیماؤں میں ٹیم منیجر حفیضہ بانو، افسانہ شاہد، شکیلہ نمرہ، ندیمہ سحر، سمرین افیات اور زبیدہ وحید شامل ہیں۔

تمام لڑکیوں کا تعلق ہنزہ کے علاقے سے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان لڑکیوں کو اس مہم جوئی کے دوران کسی مرد کوہ پیما کی مدد حاصل نہیں تھی۔

[IMG]


واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی میں ہی پاکستان کی 3 بہادر لڑکیوں نے وادی شمشال کی 6 ہزار 80 میٹر بلند منگلیسر پہاڑی کو سر کرکے بھی عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکیاں مشہور کوہ پیماہ لٹل کریم کی پوتیاں تھیں، جن میں 13 سالہ آمنہ، 14 سالہ مریم بشیر اور 15 سالہ صدیقہ بتول شامل تھیں۔منگلیسر پہاڑی کو سر کرنے کے مشن میں لڑکیوں کے دادا سمیت دیگر 9 کوہ پیما اور چار بین الاقوامی افراد بھی شامل تھے۔انہوں نے اس سفر کا آغاز 16 جولائی کو کیا تھا جس کا اختتام 24 جولائی کو ہوا۔
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
ٹیکنالوجی ریویو کی ’35 انڈر 35‘ فہرست میں دو پاکستانی خواتین بھی شامل

[IMG]

دائیں جانب حرا حسین اور بائیں جانب شہربانو جنہیں ایم آئی ٹی 35 انڈر 35 میں شامل کیا گیا ہے (فوٹو: ایم آئی ٹی ٹیک ریویو)

کیلیفورنیا: میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نمائندہ جریدے ’’ٹیکنالوجی ریویو‘‘ نے 35 سال سے کم عمر 35 باصلاحیت افراد کی فہرست میں دو پاکستانی خواتین کو بھی شامل کرلیا۔

واضح رہے کہ امریکا میں واقع میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کا نمائندہ جریدہ ٹیکنالوجی ریویو 1899 سے شائع ہورہا ہے جس نے پچھلے کئی سال سے ’’فوربس 500‘‘ کی طرز پر سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں جدید اختراعات و ایجادات کے حوالے سے بہترین منصوبوں، اداروں اور شخصیات کو نمایاں کرنے کےلیے مختلف سالانہ فہرستیں شائع کرنا شروع کی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک سالانہ فہرست 35 سال سے کم عمر کے ایسے 35 افراد پر مشتمل ہوتی ہے جنہوں نے کوئی غیرمعمولی کارنامہ سرانجام دیا ہو۔ اسی مناسبت سے یہ فہرست ’’35 انڈر 35‘‘ بھی کہلاتی ہے۔

اس سال ٹیکنالوجی ریویو کی ’’35 انڈر 35‘‘ فہرست میں دو پاکستانی خواتین بھی شامل ہیں جو پاکستان کےلیے کسی اہم اعزاز سے کم بات نہیں۔


حرا حسین
ان میں سے پہلی خاتون 28 سالہ حرا حسین ہیں جنہیں ٹیکنالوجی اور سماجی اختراع کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ حرا حسین نے کثیر لسانی کراؤڈ سورس پلیٹ فارم بنایا ہے جس کے تحت گھریلو تشدد اور جبر کی شکار خواتین کسی وکیل کے بغیر بھی اپنا مقدمہ درج کروا سکتی ہیں۔ ساتھ ہی نفسیاتی تشدد کو بھی آشکار کیا جاسکتا ہے۔

یہ کام انہوں نے برطانیہ میں رہتے ہوئے کیا ہے جہاں پاکستان اور دیگر ممالک سے آنے والی خواتین پر شادی کے بعد جبر کیا جاتا ہے۔ یہ خواتین طلاق، خلع، بچوں کی کفالت اور سیاسی پناہ جیسے پیچیدہ قوانین سے ناواقف ہوتی ہیں اور بسا اوقات معلومات ہونے کے باوجود بھی اس عمل سے دور اور خوف زدہ رہتی ہیں۔

2013 میں حرا نے چین نامی اوپن سورس تنظیم بنائی اور آج اس سے وابستہ 400 رضا کاروں میں 70 فیصد ایسی خواتین شامل ہیں جو خود تشدد اور گھریلو زیادتیوں سے گزر چکی ہیں۔ اس ضمن میں کراؤڈ سورس پلیٹ فارم کے ذریعے نفسیاتی، سماجی اور قانونی پیچیدگیوں پر گہری تحقیق کی گئی ہے۔

مثلاً اگر کوئی بھارتی خاتون گھریلو جبر کا نشانہ بنتی ہے اور اس مصیبت سے چھٹکارا چاہتی ہے تو اس کی مدد کےلیے بھارتی قوانین کی روشنی میں رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان ، بنگلہ دیش اور دیگر کئی ممالک کی خواتین اپنے اپنے ممالک کے قانون کو دیکھتے ہوئے اپنے حق سے آگاہ رہتی ہیں اور اس صورتحال سے باہر آسکتی ہیں۔

حال ہی میں حرا حسین نے اپنے پلیٹ فارم پر ایک چیٹ بوٹ بھی متعارف کروایا ہے جو کسی بھی خاتون کی آن لائن مدد کرتا ہے اور اس کا مسئلہ دیکھ کر درست مشورہ دیتا ہے۔ دوسری جانب ویب سائٹ پر چند کلکس سے آسان معلومات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔



شہربانو

31 سالہ شہربانو نے ریاست کی جانب سے سنسرشپ کے خلاف عملی قدم اٹھایا ہے اور اس عمل کو منظم انداز میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والی شہربانو اس وقت یونیورسٹی کالج لندن میں زیرِ تعلیم ہیں۔ جب 2012 میں پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی لگائی گئی تو شہربانو نے اپنے اس کام کا آغاز کیا۔ اگرچہ لوگ اس پر چپ رہے لیکن شہربانو نے اس پر تحقیق کرتے ہوئے ریاستی سنسرشپ کو شکست دینے کی ٹھانی۔

انہوں نے تین سال تک پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں (آئی ایس پیز) کا ڈیٹا جمع کیا۔ اسے چینی گریٹ فائر وال پر بھی آزمایا گیا جسے چین میں انٹرنیٹ سنسرشپ کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دوران انہوں نے غور کیا کہ بعض بنیادی تکنیکی پابندیوں کی وجہ سے انٹرنیٹ سنسرشپ کی جاتی ہے۔ خاص ویب سائٹ کو روکنے والے سنسرشپ ماڈیول ویب سائٹ سرور اور صارف کے براؤزر کے درمیان کام کرتے ہیں۔

ان باتوں کو سمجھنے کے بعد شہربانو نے انکرپشن چھیڑے بغیر پابندیوں کو عبور کرنے کا طریقہ وضع کیا۔ مثلاً اس میں غلط اسپیلنگ یا کسی اور وجہ سے ریکویسٹ بھیجی گئی لیکن اسی کے ساتھ اصل ویب سائٹ کی ریکویسٹ بھی شامل ہوگئی۔

شہربانو نے یہ بھی بتایا کہ بے نام صارفین (anonymous users) اور ٹی او آر(The Onion Router) جیسے سیکیورٹی سافٹ ویئر اور ایڈ بلاکرز کس طرح کام کرتے ہیں اور کس طرح انٹرنیٹ کے استعمال کو بد سے بدتر بنادیتے ہیں۔

اسی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے شہربانو نے کئی کمپیوٹر ماہرین کے ساتھ کام کرکے آن لائن رابطوں کی آزادی کو یقینی بنانے پر کام شروع کردیا۔ اپنی جامعہ میں پوسٹ ڈاکٹرل تحقیق میں اب وہ شفاف بلاک چین جیسے نظام پر کام کررہی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے چین اسپیس جیسے اسمارٹ کنٹریکٹ پلیٹ فارم بنائے ہیں۔ اس کی مدد سے آن لائن سیکیورٹی بڑھائی جاسکتی ہے لیکن بہت شفاف انداز میں۔
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
[IMG]

رابعہ شہزاد نے 55 کلوگرام کٹیگری میں مجموعی طور پر 90 کلو گرام وزن اٹھایا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

پاکستانی ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد نے آسٹریلیا میں گولڈ میڈل جیت لیا۔

سڈنی میں ہونے والے رالف کیش مین اوپن ویٹ لفٹنگ مقابلے میں 20 سالہ ویٹ لفٹر نے 55 کلوگرام کٹیگری میں مجموعی طور پر 90 کلو گرام وزن اٹھایا، اس میں 40 کے جی سنیچ اور 50 کے جی کلین اینڈ جرک کے شامل کے شامل تھے۔ رابعہ شہزاد نے دبئی میں ہونے والی بنچ پریس چیمپئن شپ میں بھی پاکستان کے لئے سلور میڈل حاصل کیا تھا۔
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
ماہین سترہ برس کی بچی ہے. صرف سترہ برس.
اندازہ کیجیے کہ یہ بچی روزانہ لیاری کے ستر بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہے. گلیوں سے بچے پکڑ پکڑ کر لاتی ہےاس سے پہلے کہ وہ منشیات کے عادی ہوجائیں ماہین انہیں پینسل کٹر اور ریزر سے اٹھنے والی مہک کے نشے میں مبتلا کر دیتی ہے۔۔

[IMG]
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
پشاور میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر تعینات سارہ تواب عمر پیشہ ورانہ اور ماں کی ذمہ داری بیک وقت نبھاتے ہوئے
DtPGru8WoAE7YDX.jpg
DtGzRjvXQAAoB7e.jpg
DtGzQZXWsAAB2mX.jpg
DtGzSiOXgAYLVNI.jpg
DtJp71_WsAARTM-.jpg
DtKLywkW0AAikoJ.jpg
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
بلوچستان کی طالبہ لاریب سحرش نواز نے انگلش زبان میں شاعری کی کتاب لکھ کے یہ ثابت کردیا
کہ بلوچستان کی خواتین کسے سے کم نہیں ۔ ان کے قابل فخر کارنامے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں
[IMG]
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
پشاور سے تعلق رکھنے والی من میت کور پاکستان کی پہلی سکھ خاتون صحافی۔
[IMG]
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
691
263
ایتھیکل ہیکنگ کا کورس کرنے والے عموماً 18 سال کی عمر میں اسے مکمل کرپاتے ہیں، لیکن پاکستان کی روما سیدین نے ساڑھے 13 سال کی عمر میں اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے عالمی اعزاز حاصل کیا تھا یہ 2016 کی رپورٹ ہے نا جانے روما سیدین نے اور کیا کارنامے سر انجام دیے ہونگے جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں
[IMG]
 
Top