نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت

  • Work-from-home

selfish_man

Senior Member
Oct 14, 2013
779
213
43
27
karachi
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہہ ایک مرتبہ فاقوں کی وجہ سے بھوک کی شدت سے تنگ آ کر رستے میں بیٹھ گئے لیکن خودداری کی وجہ سے کسی سے بھی سوال نہ کیا
اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہہ کا ادھر سے گزر ہوا حضرت ابو ہریرہ نے اس خیال سے ان سے بات کی کہ شاید وہ کھانے کاکہہ دیں لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہہ نے بات کا جواب دیا اور اپنے گھر کی طرف چلے گئے
کچھ دیر بعدحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ گزرے تو حضرت ابو ہریرہ نے ان سے بھی کوئی بات کی اور وہ بھی ان کی بات کا جواب دے کر گھر تشریف لے گئے
اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابو ہریرہ کا چہرہ دیکھ کر ماجرا سمجھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ گھر لے آئے ، گھر میں کہیں سے دودھ کا پیالہ ہدیہ آیا ہوا تھا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ جاؤ
اصحاب صفہ کو بلا لاؤ
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ ایک پیالہ دودھ ہے تو اسے کون کون پی لے گا اور میرے حصے میں تو کچھ بھی نہیں آئے گا کیونکہ اصحاب صفہ مہمان ہونگے تو پہلے انکو ہی پلایاجائے گا
لیکن بھوک پر حکم مقدم تھا چنانچہ اصحاب صفہ کو بلا لائے
اللہ کے نبی نے حضرت ابو ہریرہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاؤ حضرت ابو ہریرہ نے باری باری سب کو دودھ پلایا اور سب نے سیر ہوکر پیا
جب سب لوگ پی چکے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ابو ہریرہ اب تو میں اور تم ہی باقی ہیں بیٹھو اور پیو ، حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے خوب دودھ پیا اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اور پیو میں نے اور پیا اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اور پیو میں نے اور پیا اور یہاں تک کہ میرا پیٹ بھر گیا میں نے کہا کہ اللہ کے نبی بس اب گنجائش نہیں رہی میں نے سیر ہوکر پی لیا لیے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسمہ اللہ پڑھی اور باقی دودھ پی لیا

یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت تھی کہ ایک پیالہ اتنے لوگوں کو کافی آگیا
( حیات الصحابہ )

 
Top