ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا

  • Work-from-home

Fantasy

~ The Rebel
Hot Shot
Sep 13, 2011
48,859
11,283
1,313
ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا
کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہو جانا
اک شہر بسا لینا بچھڑے ہوئے لوگوں کا​
پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سو جانا​
موضوعِ سخن کچھ ہو ، تا دیر اسے تکنا​
ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا​
آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر​
جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا​
جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا​
خاموش تکلم سے پلکوں کو بھگو جانا​
لفظوں میں اتر آنا ان پھول سے ہونٹوں کا​
اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا​
ہر شام عزائم کے کچھ محل بنا لینا​
ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا

@[USERGROUP=109]Tag_TM[/USERGROUP]​
 
  • Like
Reactions: unique-style
Top