Another night in the hospital (Fantasy)

Angela

♡~Loneliness Forever~♡
TM Star
Apr 29, 2019
4,602
1,934
263
♡~Dasht e Tanhayi~♡
Couldn't think of any title but this .. 💁
In Poetry the couplet does not has a title :). If you are talking about thread title, then it should be Life Forever ...
I don't know, in what context you write this couplet, but if any poet will see this,then definitely he assumes the same meaning as I did.
This couplet bears two meaning.....!!!!!! the one hidden meaning which I assumed and the second in which you wrote this..Nd both are deep.......
انتظارِ موت نے شب بھر جگایا اور پھر
صبح ہوتے زندگی میرے گلے سے آ لگی
Great one :(
Really a nice one.....!!!!!!!!!!
 

Museebat

Active Member
Sep 7, 2018
307
272
213
The title should be... "

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا
کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر
"
 

Angela

♡~Loneliness Forever~♡
TM Star
Apr 29, 2019
4,602
1,934
263
♡~Dasht e Tanhayi~♡
so that means she died in the hospital then?
ہممم۔۔سلیس اردو میں اگر کہا جائے تو یہی :)۔
ایکچوئلی۔۔فینٹیسی آپی نے اس شعر میں زندگی سے مراد شائد دنیاوی زندگی ہی لی ہے۔۔۔ہر شاعر یا لکھنے والا اپنی اس وقت کی ذہنی کیفیت کے مطابق شعر کہتا ہے۔۔لیکن ہر شعر میں ایک ایسا مفہوم بھی ہوتا ہے جو شعراء کرام اخذ کر لیتے ہیں۔یہ تصوف بھی ہو سکتا یا کوئی اور مفہوم بھی۔۔۔
فینیٹسی آپی کے شعر کو اگر کوئی دیکھے گا تو زندگی سے مراد ابدی زندگی ہی خیال کرے گا۔۔۔ایک طرح سے یہ معرفت کا شعر ہے :) بہت سے لوگ موت کو زندگی کے اختتام کے معنی میں لیتے ہیں۔۔لیکن موت کا معنی فنا ہونا نہیں بلکہ منتقل ہونا کے ہے۔۔موت کا مطلب کسی بھی روح کو کسی بھی چیز کو پورے کا پورا اپنی تحویل میں لے لینا ہے۔۔۔۔اس شعر کا مفہوم ہم بیان کریں گے تو یہی کہیں گے کہ کوئی فرد بسترِ مرگ پر ہے اور اپنی سانسیں پوری ہوتے گن رہا ہے۔۔۔وہ موت کا منتظر ہے۔۔اب انتظار دو قسم کا ہو سکتا۔۔۔ ایک تو وہ انتظار جو بصد شوق موت کو گلے سے لگانے، اور دنیا سے جان چھڑانے کے لئے کیا جاتا ہے۔۔کہ کب جلدی سے موت اپنی آگوش میں لے۔۔۔لیکن یہاں اگر فینٹیسی کا مصرع دیکھا جائے تو یوں ہے، انتظارِ موت نے شب بھر ''جگایا'' اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مطلب یہ کہ فنا اور موت کی طرف گامزن ہونے کی بے چینی نے نیند آنکھوں سے چھین لی کہ بس اب یا تب سانسوں کی مالا ٹوٹے گی اور روح تحویل میں لے لی جائے گی۔۔۔اور سب ختم ہوجائے گا۔۔۔ لیکن جب صبح ہوئی۔خیالات پر روحانیت کا سورج طلوع ہوا۔۔۔۔ اس صبح کو زندگی کی سحر سے بھی منسوب کیا جا سکتا۔۔۔جب روح کا تعلق جسم سے اور جسم کا تعلق اس عارضی دنیا سے ختم ہوا تو ذہن و روح روشن ہوگئے۔۔ چشمِ قلب جگمگا اٹھی کہ ہم تو موت اور فنا کے منتظر تھے لیکن یہاں تو حیاتِ جاوداں اپنے بازو پھیلائے موجود ہے۔۔ جسے ہم وفات سمجھتے رہے تھے دراصل وہی حیات ہے۔۔۔ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔مرنے کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور ابدی زندگی سے نوازا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر کے ایک یا دو نہیں، کئی مفاہیم نکلتے ہیں۔۔دوسرے الفاظ میں یہ کثیر جہتی تصور ہے۔۔۔۔۔۔۔

@Kavi @shehr-e-tanhayi
آپ لوگ کیا کہتے ہیں اس بارے؟
must reply kavi bhayya nd tanhayi aapa.
@Fantasy
آپ نے کس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شعر تخلیق کیا ۔؟
ضرور بتائیے تا کہ معلوم ہو سکے۔۔۔ہم کسی شعر میں الجھ جائیں تو ذہنی انتشار کا شکار رہتے ہیں جب تک اس کے داخلی اور خارجی مفاہیم سے واقف نہ ہو جائیں :)۔
۔
 
  • Like
Reactions: Kavi

Don

Administrator
Mar 15, 2007
11,026
14,641
1,313
Toronto, Ca
ہممم۔۔سلیس اردو میں اگر کہا جائے تو یہی :)۔
ایکچوئلی۔۔فینٹیسی آپی نے اس شعر میں زندگی سے مراد شائد دنیاوی زندگی ہی لی ہے۔۔۔ہر شاعر یا لکھنے والا اپنی اس وقت کی ذہنی کیفیت کے مطابق شعر کہتا ہے۔۔لیکن ہر شعر میں ایک ایسا مفہوم بھی ہوتا ہے جو شعراء کرام اخذ کر لیتے ہیں۔یہ تصوف بھی ہو سکتا یا کوئی اور مفہوم بھی۔۔۔
فینیٹسی آپی کے شعر کو اگر کوئی دیکھے گا تو زندگی سے مراد ابدی زندگی ہی خیال کرے گا۔۔۔ایک طرح سے یہ معرفت کا شعر ہے :) بہت سے لوگ موت کو زندگی کے اختتام کے معنی میں لیتے ہیں۔۔لیکن موت کا معنی فنا ہونا نہیں بلکہ منتقل ہونا کے ہے۔۔موت کا مطلب کسی بھی روح کو کسی بھی چیز کو پورے کا پورا اپنی تحویل میں لے لینا ہے۔۔۔۔اس شعر کا مفہوم ہم بیان کریں گے تو یہی کہیں گے کہ کوئی فرد بسترِ مرگ پر ہے اور اپنی سانسیں پوری ہوتے گن رہا ہے۔۔۔وہ موت کا منتظر ہے۔۔اب انتظار دو قسم کا ہو سکتا۔۔۔ ایک تو وہ انتظار جو بصد شوق موت کو گلے سے لگانے، اور دنیا سے جان چھڑانے کے لئے کیا جاتا ہے۔۔کہ کب جلدی سے موت اپنی آگوش میں لے۔۔۔لیکن یہاں اگر فینٹیسی کا مصرع دیکھا جائے تو یوں ہے، انتظارِ موت نے شب بھر ''جگایا'' اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مطلب یہ کہ فنا اور موت کی طرف گامزن ہونے کی بے چینی نے نیند آنکھوں سے چھین لی کہ بس اب یا تب سانسوں کی مالا ٹوٹے گی اور روح تحویل میں لے لی جائے گی۔۔۔اور سب ختم ہوجائے گا۔۔۔ لیکن جب صبح ہوئی۔خیالات پر روحانیت کا سورج طلوع ہوا۔۔۔۔ اس صبح کو زندگی کی سحر سے بھی منسوب کیا جا سکتا۔۔۔جب روح کا تعلق جسم سے اور جسم کا تعلق اس عارضی دنیا سے ختم ہوا تو ذہن و روح روشن ہوگئے۔۔ چشمِ قلب جگمگا اٹھی کہ ہم تو موت اور فنا کے منتظر تھے لیکن یہاں تو حیاتِ جاوداں اپنے بازو پھیلائے موجود ہے۔۔ جسے ہم وفات سمجھتے رہے تھے دراصل وہی حیات ہے۔۔۔ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔مرنے کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور ابدی زندگی سے نوازا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر کے ایک یا دو نہیں، کئی مفاہیم نکلتے ہیں۔۔دوسرے الفاظ میں یہ کثیر جہتی تصور ہے۔۔۔۔۔۔۔

@Kavi @shehr-e-tanhayi
آپ لوگ کیا کہتے ہیں اس بارے؟
must reply kavi bhayya nd tanhayi aapa.
@Fantasy
آپ نے کس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شعر تخلیق کیا ۔؟
ضرور بتائیے تا کہ معلوم ہو سکے۔۔۔ہم کسی شعر میں الجھ جائیں تو ذہنی انتشار کا شکار رہتے ہیں جب تک اس کے داخلی اور خارجی مفاہیم سے واقف نہ ہو جائیں :)۔
۔
Matlab k fantasy k ilawa koi nahi janta k hospital may kia howa?
 
  • Like
Reactions: Angela

Fantasy

~ The Rebel
Hot Shot
Sep 13, 2011
46,841
10,537
1,313
ہممم۔۔سلیس اردو میں اگر کہا جائے تو یہی :)۔
ایکچوئلی۔۔فینٹیسی آپی نے اس شعر میں زندگی سے مراد شائد دنیاوی زندگی ہی لی ہے۔۔۔ہر شاعر یا لکھنے والا اپنی اس وقت کی ذہنی کیفیت کے مطابق شعر کہتا ہے۔۔لیکن ہر شعر میں ایک ایسا مفہوم بھی ہوتا ہے جو شعراء کرام اخذ کر لیتے ہیں۔یہ تصوف بھی ہو سکتا یا کوئی اور مفہوم بھی۔۔۔
فینیٹسی آپی کے شعر کو اگر کوئی دیکھے گا تو زندگی سے مراد ابدی زندگی ہی خیال کرے گا۔۔۔ایک طرح سے یہ معرفت کا شعر ہے :) بہت سے لوگ موت کو زندگی کے اختتام کے معنی میں لیتے ہیں۔۔لیکن موت کا معنی فنا ہونا نہیں بلکہ منتقل ہونا کے ہے۔۔موت کا مطلب کسی بھی روح کو کسی بھی چیز کو پورے کا پورا اپنی تحویل میں لے لینا ہے۔۔۔۔اس شعر کا مفہوم ہم بیان کریں گے تو یہی کہیں گے کہ کوئی فرد بسترِ مرگ پر ہے اور اپنی سانسیں پوری ہوتے گن رہا ہے۔۔۔وہ موت کا منتظر ہے۔۔اب انتظار دو قسم کا ہو سکتا۔۔۔ ایک تو وہ انتظار جو بصد شوق موت کو گلے سے لگانے، اور دنیا سے جان چھڑانے کے لئے کیا جاتا ہے۔۔کہ کب جلدی سے موت اپنی آگوش میں لے۔۔۔لیکن یہاں اگر فینٹیسی کا مصرع دیکھا جائے تو یوں ہے، انتظارِ موت نے شب بھر ''جگایا'' اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مطلب یہ کہ فنا اور موت کی طرف گامزن ہونے کی بے چینی نے نیند آنکھوں سے چھین لی کہ بس اب یا تب سانسوں کی مالا ٹوٹے گی اور روح تحویل میں لے لی جائے گی۔۔۔اور سب ختم ہوجائے گا۔۔۔ لیکن جب صبح ہوئی۔خیالات پر روحانیت کا سورج طلوع ہوا۔۔۔۔ اس صبح کو زندگی کی سحر سے بھی منسوب کیا جا سکتا۔۔۔جب روح کا تعلق جسم سے اور جسم کا تعلق اس عارضی دنیا سے ختم ہوا تو ذہن و روح روشن ہوگئے۔۔ چشمِ قلب جگمگا اٹھی کہ ہم تو موت اور فنا کے منتظر تھے لیکن یہاں تو حیاتِ جاوداں اپنے بازو پھیلائے موجود ہے۔۔ جسے ہم وفات سمجھتے رہے تھے دراصل وہی حیات ہے۔۔۔ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔مرنے کے بعد ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور ابدی زندگی سے نوازا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر کے ایک یا دو نہیں، کئی مفاہیم نکلتے ہیں۔۔دوسرے الفاظ میں یہ کثیر جہتی تصور ہے۔۔۔۔۔۔۔

@Kavi @shehr-e-tanhayi
آپ لوگ کیا کہتے ہیں اس بارے؟
must reply kavi bhayya nd tanhayi aapa.
@Fantasy
آپ نے کس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شعر تخلیق کیا ۔؟
ضرور بتائیے تا کہ معلوم ہو سکے۔۔۔ہم کسی شعر میں الجھ جائیں تو ذہنی انتشار کا شکار رہتے ہیں جب تک اس کے داخلی اور خارجی مفاہیم سے واقف نہ ہو جائیں :)۔
۔
اگر شاعر خود ہی مفہوم سمجھانے لگیں تو شاعری کا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔
 
  • Like
Reactions: Angela
Top