History Fazayel Shair e Khuda

ROHAAN

Senior Member
Aug 14, 2016
707
513
393
97725359_3472510176098625_6806958483334758400_o.jpg


فضائل شیر خدا
تحریر: عائشہ بتول

آپ کا نام نامی علی بن ابی طالب اور کنیت بوالحسن و ابوتراب ہے۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوجوانوں میں اولین ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تو نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے اپنے چچا کا بوجھ کم کر کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کفالت کی ذمہ داری لی اور مختلف روایات کے مطابق 8 سے 10 سال کی عمر میں آپ نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جملہ خوبیوں اور اعزازات کے مالک تھے۔ آپ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے چچا ابو طالب کے بیٹے، داماد و خلیفہ مصطفیٰ، عقد مواخاۃ میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے بھائی، شہرِ علم کے دروازے، شجاعت کے پیکر بے مثال اور والد حسنین کریمین تھے۔ عقد مواخاۃ میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ تم یعنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دنیا و آخرت، دونوں میں میری بھائی ہو۔

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین
باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام
جنگ خیبر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قلعے کا دروازہ اپنی پیٹھ مبارک پر اٹھا لیا تھا جس کے بعد مسلمانوں نے اسے فتح کیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد جب لوگوں نے دروازے کو گھسیٹ کر دوسری جگہ ڈالنا چاہا تو40 سے کم آدمی اسے نہ اٹھا سکے۔ ابن عساکر نے ابورافع سے روایت کی کے آپ نے خیبر کا پھاٹک اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ بعد میں اسے کئی لوگوں نے پلٹنا چاہا مگر وہ نہ پلٹ سکے۔
شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن
پرتوِ دست قدرت پہ لاکھوں سلام
حضرت اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتی ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ مسائل شرعیہ جاننے والا کوئی نہیں پایا۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کے صحابہ رضوان اللہ اجمعین میں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ ایسا کوئی نہیں تھا کہ جو کہے مجھ سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو۔ حضرت سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیر موجودگی میں اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کوئی مشکل مقدمہ آتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کی پناہ مانگتے کہ کہیں فیصلہ غلط نہ ہوجائے۔ ایک یہودی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم علم کے شہر کے دروازے ہو اور اس بات کے دعویدار کہ قرآن میں ہر چیز کا علم ہے تو بتائو تمہاری داڑھی گھنی اور میری میں صرف چند بال کیوں ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ اعراف کی آیت 58 کا جزو پڑھ کر سنا دیا؛ "اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل"
ترمزی شریف میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن بغض و عداوت نہیں رکھتا۔ مشکوۃ شریف کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ جس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ تاریخ الخفاء کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری وجہ سے 2 گروہ ہلاک ہوں گے، ایک میری محبت میں حد سے تجاوز کرنے والے اور دوسرے مجھ سے بغض و عدات رکھنے والے(خلاصہ)۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خارجی ابن بلجم نے 17 رمضان کو نماز فجر کے لئے تشریف لیجاتے ہوئے دھوکے سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا اور 21 رمضان کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح مبارکہ بارگاہ قدس میں پرواز کر گئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 4 برس، 8 ماہ اور 9 دن تک خلیفہ رہے اور 63 برس کی عمر میں وصال فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن سے فارغ ہو کر حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن بلجم کو قتل کر دیا۔ اس کے ہاتھ پیر کاٹ کر اس کی لاش کو ٹوکرے میں ڈالتے ہوئے آگ لگا دی۔
آپ کے چند اقوال؛
۱: عالم وہی شخص ہے جو اپنے علم پر عمل بھی کرئے اور اپنے عمل کو علم کے مطابق بنائے۔
۲: تقدیرگہرہ سمندر ہے اس میں غوطہ نہ لگائو۔
۳: خوش اخلاقی بہترین دوست ہے اور ادب بہترین میراث۔
۴: جاہلوں کی دوستی سے بچو کہ بہت عقلمندوں کو انہوں نے تباہ کر دیا۔
 
Top