Hamara Ishq Bhi Ab Maand Hai

ROHAAN

Senior Member
Aug 14, 2016
987
626
393
102967214_139048074420884_4479437369723846656_n.jpg


ہمارا عشق بھی اب ماند ہے

یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کر دیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے

کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے

کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

اذیت تھی مگر لذت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیت ہے اذیت کے سوا کیا رہ گیا ہے

ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب ان کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

شمار و بے شماری کے تردد سے گزر کر
مآل عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے
 

Angela

Senior Member
Apr 29, 2019
667
308
113
♡~Dasht e Tanhayi~♡

saviou

Manager
Aug 23, 2009
41,028
23,998
1,313
View attachment 113695

ہمارا عشق بھی اب ماند ہے

یہاں تکرار ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کر دیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے

کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے

سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے

کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

اذیت تھی مگر لذت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیت ہے اذیت کے سوا کیا رہ گیا ہے

ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب ان کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے

بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے

شمار و بے شماری کے تردد سے گزر کر
مآل عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے
bohot khoob

shukran
 
  • Like
Reactions: Angela
Top