Quaid e Azam Bhi Shaayir They...!!!

Angela

♡~Loneliness Forever~♡
TM Star
Apr 29, 2019
2,239
1,193
163
♡~Dasht e Tanhayi~♡

قائد اعظم بھی شاعر تھے؟
کرنل اشفاق حسین

مختلف رسالوں میں متن کے ساتھ ساتھ جا بجا چوکھٹوں میں دلچسپ واقعات، لطیفے یا اشعار دیے جاتے ہیں۔ پہلے تو صحافت کی زبان میں انھیں Fillerکہتے تھے اور یہ صرف وہیں استعمال کے جاتے تھے جہاں ایک مضمون مکمل ہونے کے بعد جگہ بچ جائے اور دوسرا مضمون شروع نہ کیا جاسکے۔ آج کل باکس آئٹم (Box Item) چوکھٹے کی شکل میں رنگا رنگی اور تنوع پیدا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں گویا قارئین کے لیے ایک ٹکٹ میں دو مزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اخبار میں دیکھا کہ صفحے کے ایک کونے پر علامہ اقبال کے چند اشعاردرج ہیں لیکن نیچے علامہ اقبال کے نام کے بجائے لکھا تھا۔ ’’قائد اعظم‘‘ ایڈیٹر سے تعلقات اچھے تھے۔ رگ ظرافت پھڑکی تو انھیں لکھ بھیجا ’’قائد اعظم شاعر بھی تھے؟


کم از کم مجھ پر اس کا انکشاف پہلی بار ہوا ہے۔ مزید انکشافات کی توقع رکھی جائے؟‘‘ جواب میں خط نہیں بھونچال آیا، طوفان آیا ، طوفان بادوباراں، تندوتیز۔ ہم نے آج تک اسے سنبھال رکھا ہے۔ پہلے تو انھوں نے اس بات پر گرفت کی کہ ہم نے غلطی کی نشان دہی کی تو کیوں؟ پھر لکھا: ’’ایسا تو عموماً وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو صحافت کے نشیب و فراز اور اس کے ’’اندرونے‘‘ سے واقف نہیں ہوتے لیکن آپ ان اسرار و رموز سے بے بہرہ نہیں۔ پھر پیشے کے حوالے سے آپ ہماری ہی برادری کے ایک معزز رکن شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی طرف سے تو ہمیں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کافی ہوتی کہ اس میدان میں ایسے لطیفے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘‘ پھر غلطی کا جواز پیش فرمایا: ’’ایسی غلطی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے۔ کئی منزلہ عمارت جو تعمیر کے دوسرے سال گر جائے، تربیلا ڈیم لیک کرنے لگے،


پاکستان کا دستور بار بار معطل ہوجائے اور خود دولخت۔ غلطی صرف کسی چیف انجینئر یا لیڈر کی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام شامل ہوتے ہیں۔ انفرادی غلطی کے مشاہدے آپ نے فوجی زندگی میں بار بار کیے ہوں گے۔ جب کوئی وردی پوش کبھی بیلٹ یا ٹوپی کے بغیر باہر نکل آتا ہے۔ کبھی ٹائٹل شولڈر، ربن یا سٹار الٹے لگ جاتے ہیں (بے تکلفی معاف) کبھی پتلون کے بٹن کھلے رہ جاتے ہیں۔ کانفرنس یا انٹرویو پر جاتے وقت ضروری کاغذ کہیں رہ جاتے ہیں۔ اصلی یا مشقی جنگ میں اسلحہ کہیں تو بارود کہیں پہنچ جاتا ہے۔


غلطی کہاں نہیں ہوتی، غلطی کون نہیں کرتا۔ جب انسان خطا و نسیان کا مرکب ہے تو وہ ان سے مبرا رہنے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ سب سے بڑی اور پہلی غلطی تو ابلیس سے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار میں ہوئی۔ پھر آدم سے جو نافرمانی سرزد ہوئی وہ بھی اسی کی ترغیب کا نتیجہ تھی۔ نوبت ہبوط آدم تک پہنچی اور اولاد آدم آج تک غلطیاں کرتی اور ان کی سزا بھگتتی چلی آ رہی ہے… بندہ ہونے کی حیثیت سے انسان ہر روز نہ جانے کتنی ہی غلطیاں، بے انصافیاں، گناہ ہائے صغیرہ و کبیرہ، فرشتوں سے نامہ اعمال میں قلم بند کراتے چلا جا رہا ہے۔ جس کا حساب کتاب یوم الحساب ہونا ہے!‘‘ اور آخر میں انھوں نے غلطی کو غلطی ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ لکھا ’’حیرت ہے کہ آپ پر قائد اعظم کے شاعر ہونے کا انکشاف پہلی مرتبہ کیوں ہوا؟


ہمیں … اور کم از کم مجھے تو ان کے شاعر ہونے میں مثقال بھر شبہ بھی نہیں وہ پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا کے بہت بڑے شاعر بلکہ ملک الشعرا تھے… قائداعظم کی کہی ہوئی ہر بات ایک شعر ہے جس میں صداقت ہی صداقت ہے، حسن ہی حسن ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قائدنے اپنی شاعری کے لیے میٹر، قوافی اور ردیف کا استعمال نہیں کیا۔ آزاد شاعری کی ہے اور اسی سے آزادی حاصل کی ہے اور یہ بھی انہی کی شاعری کا فیض ہے کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، ہیں۔ ‘‘ صاحبو! اس خط کے بعد سے ہم قائد اعظم کو شاعر بھی مانتے چلے آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ مدیر موصوف کا پورا خط نقل نہیں کیا گیا
؎کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے


(قیامت کے نامے)

@khamosh_dua @Armaghankhan @shehr-e-tanhayi @Seemab_khan @saviou @Kavi @kainatmalik @mehreensaeed @Mahen @minaahil


 

Armaghankhan

Likhy Nhi Ja Sakty Dukhi Dil K Afsaany
Super Star
Sep 13, 2012
10,195
5,413
1,313
KARACHI

قائد اعظم بھی شاعر تھے؟
کرنل اشفاق حسین

مختلف رسالوں میں متن کے ساتھ ساتھ جا بجا چوکھٹوں میں دلچسپ واقعات، لطیفے یا اشعار دیے جاتے ہیں۔ پہلے تو صحافت کی زبان میں انھیں Fillerکہتے تھے اور یہ صرف وہیں استعمال کے جاتے تھے جہاں ایک مضمون مکمل ہونے کے بعد جگہ بچ جائے اور دوسرا مضمون شروع نہ کیا جاسکے۔ آج کل باکس آئٹم (Box Item) چوکھٹے کی شکل میں رنگا رنگی اور تنوع پیدا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں گویا قارئین کے لیے ایک ٹکٹ میں دو مزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اخبار میں دیکھا کہ صفحے کے ایک کونے پر علامہ اقبال کے چند اشعاردرج ہیں لیکن نیچے علامہ اقبال کے نام کے بجائے لکھا تھا۔ ’’قائد اعظم‘‘ ایڈیٹر سے تعلقات اچھے تھے۔ رگ ظرافت پھڑکی تو انھیں لکھ بھیجا ’’قائد اعظم شاعر بھی تھے؟


کم از کم مجھ پر اس کا انکشاف پہلی بار ہوا ہے۔ مزید انکشافات کی توقع رکھی جائے؟‘‘ جواب میں خط نہیں بھونچال آیا، طوفان آیا ، طوفان بادوباراں، تندوتیز۔ ہم نے آج تک اسے سنبھال رکھا ہے۔ پہلے تو انھوں نے اس بات پر گرفت کی کہ ہم نے غلطی کی نشان دہی کی تو کیوں؟ پھر لکھا: ’’ایسا تو عموماً وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو صحافت کے نشیب و فراز اور اس کے ’’اندرونے‘‘ سے واقف نہیں ہوتے لیکن آپ ان اسرار و رموز سے بے بہرہ نہیں۔ پھر پیشے کے حوالے سے آپ ہماری ہی برادری کے ایک معزز رکن شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی طرف سے تو ہمیں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کافی ہوتی کہ اس میدان میں ایسے لطیفے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘‘ پھر غلطی کا جواز پیش فرمایا: ’’ایسی غلطی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے۔ کئی منزلہ عمارت جو تعمیر کے دوسرے سال گر جائے، تربیلا ڈیم لیک کرنے لگے،


پاکستان کا دستور بار بار معطل ہوجائے اور خود دولخت۔ غلطی صرف کسی چیف انجینئر یا لیڈر کی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام شامل ہوتے ہیں۔ انفرادی غلطی کے مشاہدے آپ نے فوجی زندگی میں بار بار کیے ہوں گے۔ جب کوئی وردی پوش کبھی بیلٹ یا ٹوپی کے بغیر باہر نکل آتا ہے۔ کبھی ٹائٹل شولڈر، ربن یا سٹار الٹے لگ جاتے ہیں (بے تکلفی معاف) کبھی پتلون کے بٹن کھلے رہ جاتے ہیں۔ کانفرنس یا انٹرویو پر جاتے وقت ضروری کاغذ کہیں رہ جاتے ہیں۔ اصلی یا مشقی جنگ میں اسلحہ کہیں تو بارود کہیں پہنچ جاتا ہے۔


غلطی کہاں نہیں ہوتی، غلطی کون نہیں کرتا۔ جب انسان خطا و نسیان کا مرکب ہے تو وہ ان سے مبرا رہنے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ سب سے بڑی اور پہلی غلطی تو ابلیس سے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار میں ہوئی۔ پھر آدم سے جو نافرمانی سرزد ہوئی وہ بھی اسی کی ترغیب کا نتیجہ تھی۔ نوبت ہبوط آدم تک پہنچی اور اولاد آدم آج تک غلطیاں کرتی اور ان کی سزا بھگتتی چلی آ رہی ہے… بندہ ہونے کی حیثیت سے انسان ہر روز نہ جانے کتنی ہی غلطیاں، بے انصافیاں، گناہ ہائے صغیرہ و کبیرہ، فرشتوں سے نامہ اعمال میں قلم بند کراتے چلا جا رہا ہے۔ جس کا حساب کتاب یوم الحساب ہونا ہے!‘‘ اور آخر میں انھوں نے غلطی کو غلطی ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ لکھا ’’حیرت ہے کہ آپ پر قائد اعظم کے شاعر ہونے کا انکشاف پہلی مرتبہ کیوں ہوا؟


ہمیں … اور کم از کم مجھے تو ان کے شاعر ہونے میں مثقال بھر شبہ بھی نہیں وہ پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا کے بہت بڑے شاعر بلکہ ملک الشعرا تھے… قائداعظم کی کہی ہوئی ہر بات ایک شعر ہے جس میں صداقت ہی صداقت ہے، حسن ہی حسن ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قائدنے اپنی شاعری کے لیے میٹر، قوافی اور ردیف کا استعمال نہیں کیا۔ آزاد شاعری کی ہے اور اسی سے آزادی حاصل کی ہے اور یہ بھی انہی کی شاعری کا فیض ہے کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، ہیں۔ ‘‘ صاحبو! اس خط کے بعد سے ہم قائد اعظم کو شاعر بھی مانتے چلے آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ مدیر موصوف کا پورا خط نقل نہیں کیا گیا
؎کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے


(قیامت کے نامے)

@khamosh_dua @Armaghankhan @shehr-e-tanhayi @Seemab_khan @saviou @Kavi @kainatmalik @mehreensaeed @Mahen @minaahil


Nice post
 

khamosh_dua

Active Member
Jun 30, 2012
466
255
1,163

قائد اعظم بھی شاعر تھے؟
کرنل اشفاق حسین

مختلف رسالوں میں متن کے ساتھ ساتھ جا بجا چوکھٹوں میں دلچسپ واقعات، لطیفے یا اشعار دیے جاتے ہیں۔ پہلے تو صحافت کی زبان میں انھیں Fillerکہتے تھے اور یہ صرف وہیں استعمال کے جاتے تھے جہاں ایک مضمون مکمل ہونے کے بعد جگہ بچ جائے اور دوسرا مضمون شروع نہ کیا جاسکے۔ آج کل باکس آئٹم (Box Item) چوکھٹے کی شکل میں رنگا رنگی اور تنوع پیدا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں گویا قارئین کے لیے ایک ٹکٹ میں دو مزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اخبار میں دیکھا کہ صفحے کے ایک کونے پر علامہ اقبال کے چند اشعاردرج ہیں لیکن نیچے علامہ اقبال کے نام کے بجائے لکھا تھا۔ ’’قائد اعظم‘‘ ایڈیٹر سے تعلقات اچھے تھے۔ رگ ظرافت پھڑکی تو انھیں لکھ بھیجا ’’قائد اعظم شاعر بھی تھے؟


کم از کم مجھ پر اس کا انکشاف پہلی بار ہوا ہے۔ مزید انکشافات کی توقع رکھی جائے؟‘‘ جواب میں خط نہیں بھونچال آیا، طوفان آیا ، طوفان بادوباراں، تندوتیز۔ ہم نے آج تک اسے سنبھال رکھا ہے۔ پہلے تو انھوں نے اس بات پر گرفت کی کہ ہم نے غلطی کی نشان دہی کی تو کیوں؟ پھر لکھا: ’’ایسا تو عموماً وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو صحافت کے نشیب و فراز اور اس کے ’’اندرونے‘‘ سے واقف نہیں ہوتے لیکن آپ ان اسرار و رموز سے بے بہرہ نہیں۔ پھر پیشے کے حوالے سے آپ ہماری ہی برادری کے ایک معزز رکن شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی طرف سے تو ہمیں ایک ہلکی سی مسکراہٹ کافی ہوتی کہ اس میدان میں ایسے لطیفے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔‘‘ پھر غلطی کا جواز پیش فرمایا: ’’ایسی غلطی انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے۔ کئی منزلہ عمارت جو تعمیر کے دوسرے سال گر جائے، تربیلا ڈیم لیک کرنے لگے،


پاکستان کا دستور بار بار معطل ہوجائے اور خود دولخت۔ غلطی صرف کسی چیف انجینئر یا لیڈر کی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام شامل ہوتے ہیں۔ انفرادی غلطی کے مشاہدے آپ نے فوجی زندگی میں بار بار کیے ہوں گے۔ جب کوئی وردی پوش کبھی بیلٹ یا ٹوپی کے بغیر باہر نکل آتا ہے۔ کبھی ٹائٹل شولڈر، ربن یا سٹار الٹے لگ جاتے ہیں (بے تکلفی معاف) کبھی پتلون کے بٹن کھلے رہ جاتے ہیں۔ کانفرنس یا انٹرویو پر جاتے وقت ضروری کاغذ کہیں رہ جاتے ہیں۔ اصلی یا مشقی جنگ میں اسلحہ کہیں تو بارود کہیں پہنچ جاتا ہے۔


غلطی کہاں نہیں ہوتی، غلطی کون نہیں کرتا۔ جب انسان خطا و نسیان کا مرکب ہے تو وہ ان سے مبرا رہنے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ سب سے بڑی اور پہلی غلطی تو ابلیس سے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار میں ہوئی۔ پھر آدم سے جو نافرمانی سرزد ہوئی وہ بھی اسی کی ترغیب کا نتیجہ تھی۔ نوبت ہبوط آدم تک پہنچی اور اولاد آدم آج تک غلطیاں کرتی اور ان کی سزا بھگتتی چلی آ رہی ہے… بندہ ہونے کی حیثیت سے انسان ہر روز نہ جانے کتنی ہی غلطیاں، بے انصافیاں، گناہ ہائے صغیرہ و کبیرہ، فرشتوں سے نامہ اعمال میں قلم بند کراتے چلا جا رہا ہے۔ جس کا حساب کتاب یوم الحساب ہونا ہے!‘‘ اور آخر میں انھوں نے غلطی کو غلطی ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ لکھا ’’حیرت ہے کہ آپ پر قائد اعظم کے شاعر ہونے کا انکشاف پہلی مرتبہ کیوں ہوا؟


ہمیں … اور کم از کم مجھے تو ان کے شاعر ہونے میں مثقال بھر شبہ بھی نہیں وہ پاکستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا کے بہت بڑے شاعر بلکہ ملک الشعرا تھے… قائداعظم کی کہی ہوئی ہر بات ایک شعر ہے جس میں صداقت ہی صداقت ہے، حسن ہی حسن ہے۔ یہ اور بات ہے کہ قائدنے اپنی شاعری کے لیے میٹر، قوافی اور ردیف کا استعمال نہیں کیا۔ آزاد شاعری کی ہے اور اسی سے آزادی حاصل کی ہے اور یہ بھی انہی کی شاعری کا فیض ہے کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں، ہیں۔ ‘‘ صاحبو! اس خط کے بعد سے ہم قائد اعظم کو شاعر بھی مانتے چلے آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ مدیر موصوف کا پورا خط نقل نہیں کیا گیا
؎کہیں کہیں سے سنائے ہیں ہم نے افسانے


(قیامت کے نامے)

@khamosh_dua @Armaghankhan @shehr-e-tanhayi @Seemab_khan @saviou @Kavi @kainatmalik @mehreensaeed @Mahen @minaahil


Good :s
 
  • Like
Reactions: Angela

Angela

♡~Loneliness Forever~♡
TM Star
Apr 29, 2019
2,239
1,193
163
♡~Dasht e Tanhayi~♡
Countless reasons
:(
Know one thing – one day you are going to go under the ground. You will be finished. Everybody else will also be finished. :( What are you worried about? You are worried about Someone Special? You are worried about your Lost one? You are worried about money? You are worried about somebody’s opinion? You are worried about prestige? You are worried about your health? There are four things that people worry about –Money, Relationship, Prestige and Health! All of them is going to go away one day. Then why worry.
💕
See life from a bigger context. Ten years ago, didn’t you worry? You are still alive. Five years ago, didn’t you worry? You are still alive. Three years back you worried. This worrying did not do anything to you. You only created more toxins in your body. Life anyway goes on. ...Life is a balance between free will and destiny.
#Copied From pta nahi kahan sey :oops:
 

khamosh_dua

Active Member
Jun 30, 2012
466
255
1,163
:(
Know one thing – one day you are going to go under the ground. You will be finished. Everybody else will also be finished. :( What are you worried about? You are worried about Someone Special? You are worried about your Lost one? You are worried about money? You are worried about somebody’s opinion? You are worried about prestige? You are worried about your health? There are four things that people worry about –Money, Relationship, Prestige and Health! All of them is going to go away one day. Then why worry.
💕
See life from a bigger context. Ten years ago, didn’t you worry? You are still alive. Five years ago, didn’t you worry? You are still alive. Three years back you worried. This worrying did not do anything to you. You only created more toxins in your body. Life anyway goes on. ...Life is a balance between free will and destiny.
#Copied From pta nahi kahan sey :oops:
I'm worried bcz I cannot breathe right now and I'm unable to cope with this 😣 cannot explain more
 
Top