Taras Raha Ho Faza Ka Moheeb Sannata

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,594
850
613
unnamed.jpg


ترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا

فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے
سلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے
ترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا
سڈول پاؤں کی پائل مگر چھنک نہ سکے
کلی کے اذن تبسم کے ساتھ شرط یہ ہے
کہ دیر تک کسی آغوش میں مہک نہ سکے

میں سوچتا ہوں کہ یہ تیری بے حجاب ہنسی!
مزاج زیست سے اس درجہ مختلف کیوں ہے
یہ ایک شمع جسے صبح کا یقین نہیں
جگر کے زخم فروزاں سے منحرف کیوں ہے

بھرا ہوا ہے نگاہوں میں زندگی کے دھواں
بس ایک شعلۂ شب تاب میں شرر کیوں ہے
مرے وجود میں جس سے کئی خراشیں ہیں
وہ اک شکن ترے ماتھے پہ مختصر کیوں ہے
جمی ہوئی ہے ستاروں پہ آنسوؤں کی نمی
ترے چراغ کی لو اتنی تیز تر کیوں ہے

نئے شوالے میں جا کر کسی کے تیشے نے
بہت سے بت تو گرائے بہت سے بت نہ گرے

بس ایک خندۂ بے باک ہی سے کیا ہوگا
لہو کی زحمت اقدام بھی ضروری ہے
ذرا سی جرأت ادراک ہی سے کیا ہوگا

گریز و رجعت و تخریب ہی سہی لیکن
کوئی تڑپ، کوئی حسرت، کوئی مراد تو ہے
تری ہنسی سے تو میری شکست ہے بہتر
مری شکست میں تھوڑا سا اعتماد تو ہے
 
Top