Today is doctor afia sideqi day must read in urdu

  • Work-from-home

laith1431

Newbie
Mar 18, 2010
27
22
0
42
اے بھائیو

اپنے سے عصبیت کو پھینک ڈالو کفر اور کفر والوں سے اظہار بریت کرو۔ اپنی واضح رائے کو بیان کرو کہ ہم اس اللہ عزوجل کے دین کا قیام چاہتے ہیں ہم اللہ عزوجل کے دین کی برتری چاہتے ہیں اس جھاد کا کیا فائدہ جس میں ہم یہودی کو ہٹائیں اور اس کی جگہ مرتد علمانی فسلطینی آجائے۔ اور وہ اس یہودی سے زیادہ نجس اور حقیر ہو جس کو ہم وہاں سے بھگائیں۔ بے شک زمین کسی کو مقدس نہیں بناتی انسان کو اس کا عمل مقدس بناتا ہے پس اگر ہمارا عمل خالصتاًللہ عزوجل کے لئے ہے اور دین حنیف کی حمیت کے لئے ہے پس تو ایسی صورت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے۔ (ان تنصروا اﷲ ینصرکم وثبت اقدامکم)اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ پس اللہ کی مدد اس کی نافرمانی میں نہیں آتی اور اس کے مقابلہ میں اور نہ ہی اس کے حکم کی مخالفت میں۔

حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ایک آدمی قبائلی حمیت کے لئے لڑتا ہے اور ایک شہرت کے لئے اور ایک تمغہ لینے کے لئے ان میں سے کون فی سبیل اللہ میں ہے آپ نے فرمایا جو اس لئے لڑائی کرے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔

بے شک انسان کا ایک ہی روح ہے جب روح نکلتا ہے یا تو نعمتوں والے جنت میں جاتا ہے یا جلنے والے عذاب میں ، پس اپنے روح کو اللہ کی رضا کے لئے عزت والا بنا اپنے روح کو کسی قیادت ، جماعت ، کسی حکومت ، کسی تنظیم کسی آدمی ، کسی دوست ، کسی قریب یا بعید والے کے لئے مختص نہ کر اس روح کو صرف اور صرف اللہ کے رستے کے لیے کر جیسا آپ نے فرمایا : میری امت ہمیشہ حق کے لئے لڑتی رہے گی۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ یہ ہے کہ جھاد کرنے والانہیں اور اس کے قافلے تھمنے والے نہیں اور اس کے سفر کرنے والے نہیں بلکہ جھاد جاری رہے گا جب سے نبی علیہ السلام آئے ہیں یہ عبادت جاری رہے گی تاوقتیکہ قیامت ہوجائے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے یہ بشارت نبی علیہ السلام نے ہم کو دی ہے ہم اس پر خوش ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں اور آخری انجام متقین کا ہوگا اور اس دین کا قیام اللہ کے حکم سے ہمارے ہاتھوں سے ہوگا۔ اور ہم جھاد کی سواری کو چلانے والے ہیں ان شاءاللہ دین کی تکمیل بلاشبہ ہوکر رہے گی۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس امت کو آسانی ، خوشحالی کی دین کی رفعت و بلندی کی شہروں میں اس کی نصرت کی خوشخبری سنادیں۔ جس نے اپنا عمل دنیا کے لیے کیا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا بے شک ہمارے تمام اعمال اللہ عزوجل کے لئے خاص ہونے چاہئیں اللہ کی عبادت میں کچھ بھی غیر اللہ کے لئے نہ ہونا چاہئیے اور ہمیشہ رہے گی میری امت حق پر لڑتی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی اور گھوڑا باندھنا اس کی پیشانی میں اللہ نے قیامت تک خیر رکھی ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دین کو عزت بخشے ، اور اپنی شریعت اور اپنی شریعت کا بول بالا کرکے اور اپنے مومن بندوں کی مدد کرکے اے اللہ تو اپنے مومن بندوں کی خصوصی مدد فرما اے اللہ تو ہمیں اپنی طرف سے فتح مبین کی توفیق دے ، یا اللہ ان کو عراق افغانستان اور فلسطین میں فتح عنایت فرما۔ اے اللہ تو اپنے دشمنوں کو پکڑلے جو تیرے دین کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور تیرے دوستوں کو پریشان کرتے ہیں۔ اے اللہ عرب وعجم کے طاغوتوں کو پکڑلے۔ اے اللہ ان کو شمار کرکے اور ان کو سب کے سامنے قتل فرما۔ اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔ اے اللہ اپنے ان دشمنوں سے اس طرح نپٹ کہ ہماری آنکھیں ٹھڈی ہوجائیں اور سینوں کو شفا مل جائے اور ہمارے دلوں کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے۔ اے اللہ تو ان کو پکڑ ا یہ دن ہمیں دکھا ، اے اللہ تو منافق مجرموں کو پکڑ لے۔یا اللہ دھوکے باز منافقوں کو پکڑ لےااے اللہ زمین پر چپکنے والے منافق مجرموں کو پکڑ لے۔ اے اللہ اپنے دوستوں کی عزت کے لئے ان سے انتقام لے۔ اے اللہ ہم تیری طرف اپنی کمزوری کی شکایت کرتے ہیں اپنے فقر اور اپنی ضروریات کی شکایت کرتے ہیں۔ اے اللہ تو ہمارا رب ہے تیرے علاوہ کوئی ہمارا رب نہیں ہے۔ یا اللہ تو ہی ہمارا الٰہ ہے تیرے علاوہ ہمارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اے اللہ تو ہم کو اپنے علاوہ ایک لمحہ بھی کسی کے حوالے نہ کرنا۔ اے اللہ تو ہمارے نفسوں کو اپنے علاوہ کسی اور کے تابع نہ کرنا۔ اے اللہ ہمارے اس دن کو فتح کا دن بنا اور مدد کا دن بنا۔ اور اپنے مومن بندوں کو جگہ دے اور ان سے تمام مصائب کو دور فرما۔ اے اللہ ہمارے موحد بھائیوں کی یہودیوں عیسائیوں ، مرتدین ،ملحدین روافض کی جیلوں سے رہائی دے، اے اللہ ہم کو ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ دے اور ہر غم سے نکالنے کا راستہ مہیا فرما۔ اور ان کو وہاں سے رزق دے جہاں سے گمان نہ ہو۔ یا اللہ ان کو اپنے گھروں ، اہل وعیال کی طرف صحیح سلامت امن کے ساتھ واپس کر۔ یا اللہ اپنے دین کو عزت دے اپنی کتاب کو عزت دے اور اپنی شریعت کی تنفیذ کر یا رب العالمین۔ اے اللہ درود بھیج اپنی مخلوق میں سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی آل پر اور آپ کے تمام اصحاب پر۔ اور ہماری آخری دعوت الحمد للہ رب العالمین۔

آپ اپنی نیک دعاؤں میں نہ بھولئے گا۔ آپ کا بھائی ابو یحییی اللیبی (حفظہ اللہ)

بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہم اس کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اوراپنے برے اعمال سے جس کو اللہ اگر ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور اس کی مخلوق میں چنے ہوئے اور اللہ کے خلیل ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ھدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ آپ کا دین تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے اگرچہ کافروں کو یہ چیز ناپسند ہو درود وسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین پر اور ان لوگوں پر جنھوں نے آپ کی ھدایت کی پیروی کی اور آپ کی سنت کو حرز جان بنایا قیامت کے دن تک۔ حمد وصلاة کے بعد!

اے اللہ تیری ہی حمد ہے اے ہمارے رب تمام حمدیں اورمبارک کلمات جو آپ کو پسند ہیں اور جن سے آپ راضی ہوتے ہیں اے اللہ مکمل طور پر تیری ہی حمد ہے اور تیرا ہی سب شکر ہے اور تمام معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں۔ اے اللہ تیری ہی حمد اس بات پر کہ آپ نے ہمیں ھدایت سے نوازا اے اللہ تیری ہی تعریف ہے اس بات پر کہ تو نے ہمیں جہانوں کے سردار کا متبع بنایا ، اے اللہ تیری ہی تعریف ہے اس بات پرکہ تونے ہمیں صراط مستقیم اور پختہ دین ودیعت فرمایا ۔

اخوة الایمان ، ایمان کے ساتھیو!

آج کا دن قربانی کا دن ہے اور وہ یوم نحر ہے اور یہی حج اکبر کا دن ہے آج کا دن شعار اسلام میں عظیم شعار کا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اسلامی طریقے اور شریعت عطا فرمائی جو آپ کے بعد امت میں باقی ہے اور امت اس کو پختگی سے تھامے ہوئے ہے یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح سے بچایا یہ وہ دن ہے جس میں ایک دوسرے سے رواداری اور محبت کو برتری دی گئی ہے۔ پس اللہ ہی کی حمد ہے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا بنایا ہم آپ کی سنت کو زندہ کررہے ہیں اور آپ کی شریعت کو مضبوط پکڑ رہے ہیں ہم آپ کی ہدایت اور اور آپ کے نشانات پر چل رہے ہیں۔

بے شک آج میں آپ کو اپنے نبی علیہ السلام کی وہ عظیم حدیث کے بارے میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں جس میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کا حال بیان کیا آپ پر ہر وقت کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے جب سے جہاد کی ابتداءہوئی ہے اللہ تعالیٰ ہی زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے وارث ہے حضرت سلمہ بن نفیل الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ایک آدمی یوں گویا ہوا اے اللہ کے رسول لوگوں نے گھوڑے چھوڑ دیئے اور اسلحے رکھ دئیے اورکہنے لگے اب کوئی جہاد نہیں ہے اور جنگ نے اپنے اوزار رکھ دیئے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اپنے چہرے سے متوجہ ہوئے اور فرمایا : لوگ جھوٹ بولتے ہیں ابھی تو لڑائی کا وقت آیا ہے اور میری امت میں ایک امت ایسی ہوگی جو حق پر لڑائی کرے گی اللہ تعالیٰ قوموں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے گا اور انہیں سے رزق دے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی حتی کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا۔گھوڑے باندھنا اور ان کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر ہے۔ ہاں جہاد کی بہت سی احادیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں ہاں ایسے ہی کہتے ہیں ہاں ، ہم جہاں بھی ٹھہرے ہم نے وہاں ہی جہاد قتال ، تیاری اور ہجرت کی باتیں کیں ۔ہاں ، بے شک جہاد ہی میں امت مسلمہ کی زندگی ہے جہاد شریعت میں باقی ہے اس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے اور اس کے کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور ا س کے چھوڑنے والوں کی مذمت کی ہے۔ہاں ، بے شک جہاد دین کا ستون ہے اور شریعت کا تحفظ اور اللہ کے دین کی پائیداری ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ مدعا بیان کیا گیا (ازال الناس الخیل)یعنی لوگ جہاد میں سست ہوگئے ہیں۔ ایک روایت میں ہے اس کو چھوڑ دیا ہے انھوں نے اسلحے کی تیاری چھوڑ دی ہے۔

یہ کب کہا تھا اے بھائی؟

یہ معاملہ کب پیش آیا؟

جب کہ اسلامی حکومت پنجے گاڑ چکی تھی جس وقت اسلام کے لشکر مشرق ومغرب کو روند رہے تھے۔

ایک روایت میں ہے یہ حدیث اس وقت کی ہے جب فتح مکہ ہوچکا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح سے ہمکنار کیا تو صحابہ رضی اللہ عنھم فتح مکہ کے بعد سمجھے کہ اللہ کے رسول اب لوگوں نے گھوڑے چھوڑ دیئے ! اور آج لوگوں نے گھوڑے رکھنے چھوڑ دیئے ، اور اس جہاد کو ترک کردیا اور اس کے معاملے کو حقیر جانا بلکہ شریعت میں جہاد کا انکار کیا ( ازال الناس الخیل ووضعوا السلاح) اسلحہ کو چھوڑ دیا ، اسلحہ کو خزانہ کیا اور بڑے بڑے اسلحہ ڈپو بھرے ہوتے ہیں ، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاد کوئی نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے دشمنوں پر فتح دی ہے اور ان کے مال ہم نے غنیمت بنائے اور ان کی طاقت کا گھمنڈ ٹوٹ گیا۔

آج ہماری کیا حالت ہے جب کہ اس زمانے میں جب امت مسلمہ کامیابی کے عروج پر تھی اور اپنی پوری قوت کے بل بوتے پر چھائی ہوئی تھی اور اس کے قائد لیڈر ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور صحابی کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں نے گھوڑے باندھنا چھوڑ دیئے ہیں اسلحہ رکھ دیا ہے اور یہ کہہ دیا ہے کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے۔ ایسی ہی بہت سی باتیں ہم سنتے ہیں کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے۔ تباہ و برباد ہوا اگر اس کو کانٹا لگے تو نہ نکالا جائے۔ کچھ لوگ توبرملا کہتے ہیں اور کچھ لوگ اشارے کے ساتھ اور کچھ لوگ اپنے فعل کے ساتھ انکار کرتے ہیں کچھ لوگ جہاد کو پیچھے دھکیلتے ہیں اور اس کی تذلیل کرتے ہیں اور بہت سے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں جو ہم آئے روز سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں۔ آج دوست دشمن سب جہاد کے منکر ہورہے ہیں کہتے ہیں تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں کیوں ڈالتے ہو۔ تم اپنے نفسوں کو کیوں تھکاتے ہو۔ تم امت کو ایسے گرداب میں کیوں دھکیلتے ہو جہاں سے واپسی نہیں ہے۔ تم نے کتنے نوجوانوں کو عراق کی لڑائی کی آگ میں جھونک دیا اور کتنے نوجوانوں کو افغانستان کی جنگ میں برباد کیا کتنی مائیں اپنے بچوں سے محروم ہوگئیں اور کتنی بیویوں نے اپنے خاوندوں کو گم پایا۔ کیا ہوگیا ہے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تم نے جہاد ، جہاد کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ کیوں یہ مشقت تکلیف اور یہ تھکاوٹ اٹھاتے ہو۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں اپنے مالوں کو برباد کررہے ہو۔ اور خون بہارہے ہو۔ اور آپ نے ایسے سپر پاور دشمن سے مقابلہ کرنے کوشش کی ہے جس کا حقیقتاً مقابلہ ناممکن ہے۔ کیا تمہیں معلوم ہے وہ کون ہے (وہ امریکا ہے) جس نے بادشاہوں کو ذلیل کیا یہ وہی امریکا ہے کہ مشرق ومغرب اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوتے ہیں۔

( لا جہاد ) جہاد نہیں ہے کیا یہ کلمہ ایک دن میں ہم کتنی بار سنتے ہیں ، کس سے سنتے ہیں؟ ہم یہ کلمہ ان علماءسے سنتے ہیں جو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں ، وہ یہ کہتے ہیں یہ کام بڑا حقیر ہے۔ دہشت گردی ہے اور بنیاد پرستی ہے۔ (آپ نے فرمایا لوگ جھوٹ بولتے ہیں اب تو جہاد کا وقت آرہا ہے) لیکن صد افسوس ، خصوصاً جہاد سے مخالفت کا شکار علماءجو اپنے آپ کو علم کا گہوارا سمجھتے ہیں لا حول ولا قوة الا باللہ۔ (لوگوں نے گھوڑے باندھنے چھوڑ دیئے اور اسلحہ رکھ دیئے اور کہا کہ اب جہاد نہیں رہا جنگ نے اپنا اسلحہ رکھ دیا ہے) یعنی ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان معرکے ختم ہوچکے ہیں پس ہمارا جہاد سے کیا واسطہ ، لیکن آپ نے اس وقت کہا تھا اب تو جہاد شروع ہوا ہے۔

کیسے آج جہاد نہیں ہے دشمن نے ہمارے گھر مسمار کردیئے

ہماری عزتوں کو لوٹا ہمارے مالوں کو لوٹا

اور ہمارے مقدس مقامات کی تذلیل کی

ہمارے بیٹوں کو قتل کیا

ہمارے بوڑھوں اور عورتوں کو قیدی بنایا

اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کوئی جہاد نہیں اب لڑائی ختم ہوچکی۔ کون سی جنگ ختم ہوئی۔ کون سی جنگ میں ہمارے دشمن نے بھی ہمارا پیچھا چھوڑا۔ دشمن تو ہماری گھروں تک پہنچ چکا ہے وہ فلسطین میں ہے کتنے سالوں سے اللہ کے دشمن نے اللہ کی مخلوق کو ذلیل حقیر کیا اور ان کی عزتوں کو خاک میں ملایا اور کتنی آزاد عورتوں کی عزتوں کو لوٹا۔ یہ وہ افغانستان ہے اور آپ کیا جانتے ہیں کہ افغانستان کیا ہے دشمن کے پیچھے دشمن کے حملے کے بعد حملہ اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کوئی جہاد نہیں جنگ ختم ہوچکی ہے۔ تو بتاؤ ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان کب جنگ شروع ہوگی۔ اگر اب بھی ہماری غیرت نہ جاگی تو کب جاگے گی۔ اگر ہم اپنے عقیدے کے تحفظ کے لئے آج نہیں اٹھیں گے تو پھر ہم اپنے آپ کو دین کی طرف منسوب کیوں کرتے ہیں کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا دین ہمیں پکار پکار کرنہیں کہہ رہا ہے (ایمان والو، تمہیں کیا ہوگیا جب تمہیں اللہ کے راستے میں نکلنے کے لئے کہا جاتا ہے تم بوجھل ہوجاتے ہو زمین کے ساتھ) یعنی تم زمین کے ساتھ چپک جاتے ہو۔ تم دنیا کی زیب وزینت کو پکڑ لیتے ہو تم نے اپنی داڑھوں سے دانتوں سے اس کے مالوں کو پکڑ رکھا ہے۔ ہاں ، تب تو یہ برباد ہوجاتے۔ دنیا کا پجاری ہلاک ہوا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی۔ حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا کا پجاری ھلاک ہوجائے۔ درھم کا پجاری ، چادر والا کپڑے والا اگر اسے دیا جائے ہے تو راضی ہوجاتا ہے اور اگر نہیں دیا جاتا تو ناراض ہوجاتا ہے۔ ہاں ، اس کا کون مقابلہ کرے گا؟ کیا دنیا کا پجاری ، دینار اور ڈالر ، جاہ و حشمت والا ، ظلمت کا مالک ، یہ مقابلہ نہیں کرسکتے ، وہی شخص مقابلہ کرسکتا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوشخبری ہو اس بندے کے لئے جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑنے والا ہے اگر وہ چوکیداری پر مقرر کیا جائے تو چوکیداری کرتا ہے اور اگر وہ لشکر کے ہر اول دستے میں مقرر کیا جائے تو وہاں کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہاں وہ مجاہد سیدھا سادھا ہوتا ہے ظاہری حسن وجمال ، لباس جاہ وحشمت ، اور اپنی شہرت کا چاہنے والا نہیں ہوتا وہ پوشیدہ اللہ کا تقوٰی اختیار کرنے والوں میں سے ہوتا ہے۔ میڈیا کی دنیا اس کو نہیں جانتی اور اس کے پروٹوکول نہیں ہوتے جیسے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا : (اگر وہ اجازت مانگے تو اجازت نہ ملے اور اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے۔ رواہ البخاری) یہ حالت ہے دنیا کے پجاری کی اور یہ حالت ہے دنیا کو خیر باد کہنے والے کی جو اللہ کے راستے میں نکلا۔

اے نوجوانان اسلام!

تمہیں مبارک ہو ، تمہیں خوشخبری ہو اس عظیم نعمت پر جس کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی۔ تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے عظیم فضل سے نوازا، آپ فقراءالمہاجرین ہیں تم میں سے اگر کوئی فوت ہوجائے اس کی خواہشات اس کے سینے میں رہ جاتی ہیں جن کو پورا نہیں کرپاتا۔ جیسے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا : کتنے نوجوان ایسے ہیں جو مخلص متقی ، پاک صاف جو دن رات اللہ کی شریعت کے دفاع اور مسلمانوں کی عزتوں کے تحفظ میں کھڑے ہیں اور ان کے مقدس مقامات کا دفاع کرتے ہیں لیکن نہ ان کو کوئی جانتا ہے اور نہ ان کے بارے میں کوئی سنتا ہے ان میں اگر کوئی فوت ہوجاتا ہے اس کی ضروریات اس کے دل میں ہوتی ہیں جسے وہ پورا نہیں کرپاتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلا گروہ فقراءالمہاجرین جو ناپسندیدہ مصائب کا شکار ہوئے وہ جنت میں داخل ہوں گے جب انہیں حکم دیا جاتا ہے تو سنتے اور اطاعت کرتے ہیں۔ بس یہی ان کی شرط ہے ایسا ان کا حال ہے اور یہ ان کی صفت ہے ہاں اور جب انہیں حکم دیا جاتا ہے سنتے اور اطاعت کرتے ہیں ( جو لوگ میرے راستے میں قتال کرتے ہیں اور شہید ہوں گے اور تکلیف دیئے گئے اور میرے راستے میں جہاد کرتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ جنت کو آواز دے گا تو جنت اپنی زیب وزینت کے ساتھ آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم اس جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوجاؤ۔ پس فرشتے سجدے کرتے ہوئے حاضر ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کو سجدے کرتے ہوئے فریاد کریں گے اے رب ہم آپ کی رات دن تسبیح بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں یہ کون لوگ ہیں جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا اور میرے راستے میں ستائے گئے ، فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو جو تم نے صبر کیا پس بہت اچھا انجام ہے آخرت کے گھروالوں کا ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو انہیں میں سے کرے)۔

اے مشرق ومغرب کے نوجوانو ،

اے مشرق و مغرب کے نوجوانو! تمہارے عقیدے کی نسبت جس کی طرف ہے (اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور صاحب علم بھی انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اے مشرق و مغرب کے نوجوانو! ، اے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرنے والو، اے ایمان والو، کیا میں تم کو ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تم کو دردناک عذاب سے بچالے ، دردناک عذاب سے بچالے ، یہ کہ تم شریعت کے دفاع کے لئے نکلو۔

اے نوجوان مسلم! بے شک اسلام تمہارا دین ہے اسلام تمہارا عقیدہ ہے کہ اس کی بیع میں کوئی خسارہ نہیں ہے۔ بے شک اللہ تعالی نے مومنوں کی جان اور مال کا سودا کرلیا ہے کہ ان چیزوں کے بدلے میں ان کے لئے جنت ہے وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں وہ دشمن کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی جام شہادت نوش فرماجاتے ہیں۔ پس اپنے عزائم پختہ کرو ان کافروں کے خلاف جنھوں نے زمین میں فساد برپا کررکھا ہے اور تباہ کردیا ہے ان کو کاٹو کاٹنا اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑنا۔ مت کان دھرو کسی ڈرانے والے کی طرف سے اور نہ کسی ذلیل کی نصیحت پر عمل کرو۔ اور نہ کسی خائن بزدل کی طرف متوجہ ہو تحقیق اس دنیا نے اسے آخرت سے غافل کردیا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا : جھوٹ بولتے ہیں اب آیا ہے قتال ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کب کہا تھا؟ اس وقت کہا تھا جب اسلامی حکومت قائم تھی اسلامی شریعت حاکم تھی۔ اسلامی عقیدہ صاف شفاف تھا۔ اور اللہ کے دشمن مجبور مقھور ، ڈرنے والے ذلیل ہوئے ڈرنے والے تھے۔

اور آج مسلمان کمزور ہیں مجاہدین بکھرے ہوئے ہیں اور مسلمان ظلم واستبداد کا شکار ہیں۔

ان کے ساتھ قید خانے بھرگئے کوڑوں نے ان کی کمروں کو پھاڑ دیا ہماری عورتیں ان ذلیل اور اللہ کی بدترین مخلوق کے ہاں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں ۔

یہ وہ فلسطین کی جیلیں جو پاک باز عورتوں سے بھری پڑی ہیں جن بہادر عورتوں نے بزدل مردوں کے مقابلے میں دین کا دفاع کیا ۔

ہاں ہمارا آج یہ حال ہے۔ اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کوئی جھاد نہیں ، ہم کس چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ آسمان سے کوئی معجزہ رونما ہوگا اور ہمارے دین کے اسباب قائم ہوجائیں گے اور ہمارا عقیدہ پھیل جائے گا تب ہم کہیں گے اب جھاد کا وقت آگیا ہے ہاں اول سے آخر تک تمام علماء ، فقہاء ، مفسرین ، محدثین کا اتفاق ہے جب دشمن مسلمان ملکوں میں سے کسی ملک پر حملہ کردے تو جہاد اس ملک پر فرض عین ہوجاتا ہے۔ اگر وہ عاجز آجائیں یا پسپا ہوجائیں تو ان کے ساتھ ملک والوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔ پس اس حکم کے مطابق ہم کہاں ہیں ہم اپنی عقلوں کے گھوڑے دوڑاتے ہیں اور وضعی اصول بناتے ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں اور ان کا کوئی وزن اللہ کے دین میں ہے۔ ہم اپنی خواہشات ، اور اپنے فلسفہ کو پیش کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے نوجوانوں کو بٹھا لیا اور ان کے کندھوں کو پکڑا اور انہیں کہا بیٹھ جاؤ وارث بن جاؤگے۔ اونٹ کا گٹھنا باندھ دو اس طرح کا آگے اور اونٹوں کو کھلا نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ دشمن ہمارا ہر خشک وتر نگل گیا اور ہم ہمیشہ سے انتظار کررہے ہیں کہ اس کی مدد کب آئے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے حکم سے آنے والی ہے۔ اور بس میرا یہی بیان تھا میں اللہ عظیم المرتبت سے معافی کا طلب گار ہوں اور میں اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں پس تم بھی اس سے استغفار طلب کرو۔

بے شک سب تعریفیں اسی کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اپنی بداعمالیوں سے جس کو اللہ ہدایت دے دیں اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ آپ پر درود بھیجے آپ کی آل پر آپ کے صحابہ پر تمام پر جو اس کی ہدایت پر چلے اور جو اس کی سنت پر چلے قیامت کے دن تک اما بعد۔

ہم کو نبی علیہ السلام نے خبر دی کہ بے شک قتال اب آیا ہے اور ہمیں باقی رہنے والی ایک خبر دی ہے کہ اس امت کا آخری آدمی دجال سے جنگ کرے گا اور وہ غالب آنے والا گروہ حق پر ہے۔ ان کی لڑائی عصبیت ، قومیت ، قومی مفادات اور بناوٹی حدود کے لئے نہ تھی بے شک ان کی لڑائی حق کے لئے تھی اور بہترین حق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی توحید ہے۔ جہاد اس وقت تک جہاد نہیں ہوتا جب تک وہ اعلاءکلمة اللہ کے لئے نہ ہو ، نہ کہ عصبیت کی مدد ، نہ خونی رشتے کے لئے اور نہ زمین کے لئے اور نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کے لئے۔ جھاد تو کلمة اللہ کو بلند کرنے میں مدد کرنے کا نام ہے۔ اور میری امت کے لوگ ہمیشہ حق پر لڑائی کرتے رہیں گے۔

اے اللہ کے بندو،

اے فلسطینی ،

اے عراقی ،

افغانی مجاہدین بھائیوں،

اپنے جھاد کو اللہ عزوجل کے لئے خاص کرو۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی حمیت کے تحفظ کے لیے مدد کرو۔ اپنے سے جاہلی عصبیتوں کو پھینک ڈالو اور اپنے باطل جھنڈوں کو گرادو۔ پس ہم کسی زمین ، کسی خون ،کسی قومیت ، کسی وطنیت کے لئے قربانیاں نہیں دے رہے اور نہ ہی ہم اس کا دفاع کرتے ہیں ہم تو صرف دفاع کرتے ہیں ( وقاتلوھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ للّٰہ)



 
Top