Yaad Shayari Collection

H@!der

Super Star
Feb 22, 2012
8,255
2,987
1,313
अब तुझे कैसे बताएँ कि तिरी यादों में
कुछ इज़ाफ़ा ही किया हम ने ख़यानत नहीं की
ab tujhe kaise bataa.e.n ki tirii yaado.n me.n
kuchh izaafa hii kiyaa ham ne KHayaanat nahii.n kii
اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں
کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی
Wah

bahut khoob :)
 

shehr-e-tanhayi

Super Magic Jori
Super Moderator
Jul 20, 2015
33,101
8,516
913
راتیں ہیں اداس دن کڑے ہیں
اے دل ترے حوصلے بڑے ہیں

اے یاد ِ حبیب ساتھ دینا
کچھ مرحلے سخت آ پڑے ہیں
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,535
7,429
913
سنگدل کتنے تیرے شہر کے منظر نکلے
جن کی مہماں تھی شبِ غم، وہی بے گھر نکلے
ایسی آنکھوں سے تو بہتر تھا کہ اندھے ہوتے
ہم جسے آئینہ سمجھیں، وہی پتّھر نکلے


محسنؔ نقوی
 
  • Like
Reactions: H@!der

H@!der

Super Star
Feb 22, 2012
8,255
2,987
1,313
راتیں ہیں اداس دن کڑے ہیں
اے دل ترے حوصلے بڑے ہیں

اے یاد ِ حبیب ساتھ دینا
کچھ مرحلے سخت آ پڑے ہیں
Ishq dushwaar to nahi leken..
Bas Zara hosla karey Koi.. :p
 

NXXXS

~` Weird `~
Superior Member
Apr 24, 2012
114,993
11,775
1,113
اکـــــتوبـــر پـھـــر اداس ہــــے"
اجنبی سی راہوں میں
دور تک نگاہوں میں
بے رخی کا موسم ہے
آج پھر نگاہوں کو
بیتے پل کی پیاس ہے
پھر رہا ہوں در بدر
کسی معجزے کی آس ہے
ایسا لگتا ہے جیسے
اکــــتوبـــر پھــــر اداس ہــــے
بات تو کرے کوئی
ساتھہ تو چلے کوئی
خاموشی کا پہرا ہے
زخم دل کا گہرا ہے
کسی بہت ہی اپنے کی
آج پھر تلاش ہے
ایسے لگتا ہے جیسے
اکــــتوبـــر پھــــر اداس ہـــے.
 
  • Like
Reactions: Untamed-Heart

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,535
7,429
913
اپنے بستر پہ میں بہت دیر سے نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہء رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اُس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا ؟​

آپ کو علم ہے ، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا​

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اُس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ،ہرے لان میں ، پھولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مجھے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا​

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہوگا
بات کرت ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے ، کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جانِ محفل ہے ، مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ بھری بزم میں تنہا ہوگا​

کبھی سنّاٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کسی عذّر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے ، نم ہوگئی ہوں گی پلکیں
آنکھ میں پڑ گیا کچھ کہہ کہ یہ ٹالا ہوگا​

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی بناہ
ہر سطر میں میرا چہرہ اُبھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اُسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانیء دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا​

اتفاقاً مجھے اُس شام میری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ ؟ کیسے تھے ؟
مجھ کو پوچھا تھا ؟ مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اُس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اُس سے آگے
کیا کہا اُس نے مجھے یاد نہیں ہے ! لیکن ۔۔۔ ۔۔​

اتنا معلوم ہے ، خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا


 
Top