ایک انوکھی کہانی

  • Work-from-home

AnadiL

••●∂ιѕαѕтєя●••
VIP
Nov 24, 2012
72,912
23,236
1,313
ایک انوکھی کہانی
اربوں کھربوں تاروں اور سیاروں کی اس
بھیڑ میں رُک کر دیکھ سکیں تواپنی زمیں کی ساری وسعت اور پھیلاؤدُنیا بھرکے صحراؤں میں پھیلی ریت کا اک ذرہ یاممکن ہے اس سے بھی کم ہولیکن پھر بھیاس موہوم سے ذرے اندرکیسی کیسی دُنیائیں اور کیا کیا منظر بستے ہیںدیکھنے والی آنکھیں روز بدل جاتی ہیں، منظر بجھتے رہتے ہیںلیکن ہر منظر کے اندر اپنا ایک تماشا ہےدیکھنے والی سب آنکھوں کی اپنی اپنی دُنیا ہےسورج کی شرطوں پہ چلتا یہ جو ہماراجلتا بجھتا سیارا ہےاب تک کے معلوم جہانوں کی یہ واحد آبادی ہےآدم کا اور اُس کی ساری نسلوں کا گہوارا ہےہست و بود کے جتنے منظر جتنے رنگ ہیںان سب کا ور تارا ہےکیسا عجب تماشا ہے یہایک ہی آدم کی اولادیں ایک ہی دھرتی پر رہتی ہیںلیکن پھر بھیاک دوجے کے بیچ میں کتنی دیواریں ہیںرنگوں نسلوں ملکوں کیدولت اور عقیدوں کیجن سے دُنیا، ہم سب کی یہ ایک ہی دُنیاٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہےکوئی کسی کا میت نہ ہوگا لمحوں کا فرما ن یہی ہےہر گلشن کا رنگ جُدا موسم کا اعلان یہی ہےہم جس خلقت کا حصہ ہیں اُس کی اب پہچان یہی ہےبے چہرہ ، چہرے ہیں سب کے ، ہونٹ سوالی رہتے ہیںبھوک کی بولی بولتی آنکھیںپیٹ کے اندر ہوتی ہیں جو اکژخالی رہتے ہیںآئی ۔ایم ۔ایف اور اس طرح کے کئی ادارےاُس کے رزق کا لقمہ لقمہ گنتے ہیں اور اُس کو اُسکےاپنے ہی پیڑوں کا پھل بھیک کی صورت میں ملتا ہےیوں لگتا ہے جیسے سب اخلاقی قدریں سارے رشتےصرف کتابوں میں ہوتے ہیںجیسے بس یہ زور آور ہیں اصل حقیقتباقی سارے قصے ہیںایک شکستہ آئینے کے ٹوٹے بکھرے حصے ہیںٹوٹے بکھرے ان حصوں کو جوڑے کونچاروں اور سے گھیرا کرتی دیواروں کو توڑے کونیوں لگتا ہےجیسے یہ اک خواب ہے جس کیکوئی بھی تعبیر نہیںٹکڑے ہو کر پھر سے ملنادھرتی کی تقدیر نہیںشاید یہ سب ٹھیک ہو لیکندل کہتا ہےاس سارے سنسار سے اوپراور کوئی بھی تو رہتا ہےجس کے حکم سے وقت کا دھارارُکتا بھی ہے اور بہتا ہےیہ جو اندر سے اُٹھتی ہے ایک صدا انجانی سُنئےآئیے ایک کہانی سُنیے

__________________
 
Top