سولہ سال سے جاری جنگ کے بعد اب امریکا نے افغانستان میں ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

  • Work-from-home

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
سولہ سال سے جاری جنگ کے بعد اب امریکا نے افغانستان میں ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

افغانستان کی جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ہوئی ایک ایسی ہڈی بن گئی ہے جسے وہ نہ نگل سکتا ہے اور نہ ہی اُگل سکتا ہے۔ اس بات کا اندازہ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس کے تازہ بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں کامیاب نہیں ہورہا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر جیمس میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت افغانستان میں کامیاب نہیں ہورہا، تاہم جلد از جلد غلطیوں کو درست کرلیا جائے گا۔ وزیر دفاع جیمس میٹس نے کہا کہ افغانستان سے فوج نکالنا بھی غلطی ہوگی، کیونکہ پھر جنگجو اپنے ممالک سے باہر نکل کر امریکا پر حملہ آور ہوں گے اور پورے عالمی نظام کےلیے خطرے کا باعث بن جائیں گے۔ میٹس نے کہا کہ وہ ایک نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں اور وسط جولائی تک وہ اس بارے میں ارکان سینیٹ کو آگاہ کریں گے۔

آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیرمین سینیٹر جان مکین نے افغانستان میں حالات پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی تشکیل نہ دینے پر ٹرمپ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جان مکین نے کہا کہ نئی حکومت کو اقتدار میں آئے چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن تاحال افغانستان کےلیے کوئی نئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ پچھلے 8 سال سے اس حکمت عملی پر عمل ہورہا ہے کہ ’’ہارنا نہیں‘‘ جبکہ وہ تو ناکام ثابت ہوچکی ہے۔ مکین نے سماعت میں اس ہفتے افغان فوجی کی فائرنگ سے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔

یاد رہے کہ اس وقت افغانستان میں 10 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید فوج افغانستان بھیجنے پر غور کررہے ہیں۔

 
  • Like
Reactions: Zunaira-Aqeel

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118
America ka anjam yahi hona ha



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


کچھ حقائق کی نشاندہی ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو ميں يہ واضح کر دوں کہ يہ دعوی کہ امريکہ جنگ ہار چکا ہے، درست ہو ہی نہيں سکتا کيونکہ يہ صرف امريکی فوجی نہيں ہيں جو افغانستان ميں دہشت گرد گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہيں۔ مقامی افغان فورسز اور سرکردہ اسلامی ممالک سميت درجنوں ممالک کی افواج عام افغان عوام کی زندگيوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کے ٹھکانوں کا قلع قمع کرنے کے ليے ہمارا ساتھ دے رہی ہيں۔ تمام فريقين کو دہشت گردی کے عالمی عفريت سے يکساں خطرات لاحق ہيں۔


ہماری پاليسی يہ نہيں ہے کہ ميدان جنگ ميں اپنی کاميابيوں پر اترائيں يا گزشتہ ايک دہائ کے دوران گرفتار اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد جنگجوؤں اور ان کے سرغناؤں کی پريڈ کروائيں۔ ليکن يہ کہنے کے باوجود نو گيارہ کے وقت القائدہ اور اس سے منسلک ديگر دہشت گرد گروہوں کے تنظيمی ڈھانچے اور ان کی صلاحيتوں کو ذہن ميں لائيں اور اس کا تقابل ان بچے کچھے مجرموں کے گروہوں سے کريں جو مسلسل فرار کا راستہ اختيار کيے ہوۓ ہيں اور محض اپنے وجود اور اپنی اہميت کو برقرار رکھنے کے ليے تگ ودو کر رہے ہيں۔ اس بات سے آپ کو اندازہ ہو جاۓ گا کہ اس جنگ ميں کون فتح ياب ہو رہا ہے۔


افغانستان ميں ہماری موجودگی اور جاری مشترکہ عالمی کوششيں مقامی آباديوں کو کنٹرول کرنے يا علاقوں پر قبضہ جمانے کے ليے نہيں ہيں۔ يہ لڑائ طالبان، پشتون يا کسی بھی مخصوص قبيلے کے خلاف بھی ہرگز مختص نہيں ہيں۔ عالمی اتحاد ان گروہوں سے منسلک ان مجرمانہ عناصر کے خلاف لڑائ کر رہا ہے جو دہشت گردی اور پرتشدد کاروائيوں کے ذريعے روزانہ بے گناہ شہريوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ افغانستان ميں ايک وسيع حکمت عملی کے تحت ہم نے يقينی طور پر افغان حکومت کی حوصلہ افزائ کی ہے کہ مختلف سياسی دھڑوں اور حامی فريقين کو سياسی دھارے ميں لانے کے ليے آمادہ کيا جاۓ اور ان کی صفوں ميں موجود ان پرتشدد عناصر کو تنہا اور عليحدہ کيا جاۓ جو اپنے مذموم مقاصد اور مخصوص ايجنڈے کے سبب پرتشدد کاروائيوں کو ترک کرنے کے ليے کسی طور بھی آمادہ نہيں ہيں۔


اس وقت سب سے اہم ضرورت اور مقصد ايسی حکمت عملی ہے جسے افغان قيادت اور عوام ليڈ کريں۔





اس بات ميں کوئ شک نہيں ہونا چاہيے کہ ہم اس جدوجہد ميں تنہا ہرگز نہيں ہيں۔ ہميں دہشت گردی کے عالمی عفريت سے نبرد آزما ہونے کے ليے مقامی حکومتوں اور عالمی برادری کا مکمل تعاون اور ان کی حمايت حاصل ہے۔


ان دہشت گردگروہوں کے خلاف شکست کا آپشن ہمارے پاس ہے ہی نہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ




 
  • Like
Reactions: Zunaira-Aqeel

fawad DOT

Active Member
Nov 26, 2008
462
20
1,118



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


کسی بھی جاری معاملے کے ضمن ميں يہ کوئ غير معمولی يا انہونی بات نہيں ہے کہ نئ فوجی اور سول قيادت تازہ سفارشات، تجزيات يا تجاويز پيش کرے تا کہ زير بحث معاملے کے حوالے سے نئ منصوبہ بندی کی جا سکے۔


امريکی وزیر دفاع جيمز ميٹس نے حال ہی ميں افغانستان ميں عسکری صورت حال کے بارے ميں جو کچھ کہا، اسے کسی بھی طور "امريکی شکست کا اعتراف" قرار نہيں ديا جا سکتا ہے بلکہ انھوں نے افغانستان میں درپيش چيلنجز کی تفصيل بيان کرنے کے ساتھ ساتھ پائيدار امن کے قيام کے ليے دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کی خاتمے اور عام شہريوں کی جانوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور ديا۔


افغانستان ميں درپيش چيلنجز کے حوالے سے ان کے الفاظ پيش ہيں


"ہم فقط عسکری حکمت عملی کو نہيں ديکھ رہے ہيں۔ تمام جنگوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ہمارا کام يہ ہے کہ اس کو جلد از جلد اختتام تک پہنچايا جاۓ ليکن اس عمل کے دوران اس مشن کو پس پش نہيں ڈالا جا سکتا جس کا ادارک گزشتہ کئ امريکی حکومتوں نے کيا اور جس کے ليے نوجوان امريکی (فوجيوں) نے اپنے آپ کو خطرات ميں ڈالا"۔


کسی بھی جاری عسکری معرکے ميں کسی فريق کو فاتح قرار دينا قبل ازوقت اور غير دانشمندانہ ہے۔ اس جدوجہد ميں اگر کوئ فتح ياب ہو سکتا ہے تو وہ افغان عوام ہيں اس صورت ميں کہ جب وہ محفوظ اور خوشحال ہوں۔ امريکی افواج کی جانب سے دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ نہيں بنايا جاتا کيونکہ اس عمل سے کوئ فوجی اور سفارتی اہداف حاصل نہيں ہوتے اور يہ ہماری اقدار کے بھی خلاف ہے





فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


[email protected]


www.state.gov


https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


http://www.facebook.com/USDOTUrdu


https://www.instagram.com/doturdu/


https://www.flickr.com/photos/usdoturdu
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
Sir @Untamed-Heart aap ke pas Sir @fawad DOT ke comments ka jawab hy?
اب یہ لوگ اقرار کریں یا انکار مگر انکے منہ سے سچ نکل چکا ہے
میں نے تو وہ شیئر کیا جو انکے اپنے الفاظ ہیں



امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر جیمس میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت افغانستان میں کامیاب نہیں ہورہا
 

Zunaira_Gul

TM Star
May 16, 2017
1,268
695
263
اب یہ لوگ اقرار کریں یا انکار مگر انکے منہ سے سچ نکل چکا ہے
میں نے تو وہ شیئر کیا جو انکے اپنے الفاظ ہیں



امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر جیمس میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت افغانستان میں کامیاب نہیں ہورہا
Sir @fawad DOT yeh to khud hi eteraaf kar rahy hyn na
 

Untamed-Heart

❤HEART❤
Hot Shot
Sep 21, 2015
23,580
7,435
913
ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں مزید 4 ہزار فوجی بھیجنے کا منصوبہ بنا لیا
امریکی اہلکار افغان اہلکاروں کی تربیت، داعش اور طالبان کے خلاف آپریشن کا حصہ ہوں گے۔

پینٹاگان افغانستان میں اپنے مزید 4 ہزار فوجی اہلکار بھیجنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کا اعلان آئندہ ہفتے تک متوقع ہے۔ اضافی امریکی اہلکار افغان فورسز کی تربیت کریں گے جبکہ دیگر امریکی فوجی اہلکاروں کو طالبان اور داعش کے خلاف انسداد دہشت گری کے آپریشن میں شامل کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران کسی بھی ملک میں امریکی فوجیوں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہو گی۔ اس مناسبت سے حتمی اعلان اگلے ہفتے کے دوران امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کی جانب سے کیا جائے گا۔
دوسری جانب پینٹاگان کے ترجمان نیوی کیپٹن جیف ڈیوس سے جب رابطہ کیا تو انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے امریکی فوجیوں کی تعیناتی پرقدرے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے فیصلے کی حمایت کرے گی۔
وزیری نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت آگاہ ہے کہ کابل حکومت دہشت گردی کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف ہے اور حکومت نیٹو اتحاد کی مدد سے اس جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش میں بھی ہے۔ افغانستان میں اس وقت امریکی فوجیوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی جانب سے بھی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ البتہ طے ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد کی رکن ریاستیں افغانستان میں اپنے فوجیوں میں اضافے کی خواہش رکھتی ہیں۔
امریکی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کی نوعیت اور کردار کا تعین اب امریکی جرنیل کریں گے، جن کا الزام ہے کہ پاکستان وہاں جاری بغاوت کو کچلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں سینٹر فار پاکستان اسٹڈیز کے سربراہ ، ڈاکٹر مارون وائن بام نے کہاکہ ان کے خیال میں پاکستان کے لیے کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی، اور ہو گی بھی نہیں، جب تک کہ افغانستان کے لیے کوئی پالیسی طے نہیں ہو جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے دو طرفہ تعلقات کی نوعیت افغانستان کے ساتھ تعلقات کے فیصلے سے منسلک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ اندازہ لگائیں کہ کیا ہو گا، تو ان کے خیال میں افغانستان کے مسئلے پر تعاون کے لیے پاکستان پر نیا دباؤ ڈالا جائے گا۔

 
  • Like
Reactions: Zunaira-Aqeel
Top