Coronavirus disease (COVID-19)

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,434
791
613
104083693_10159031830999162_169866936372805116_o.jpg

کرونا کی بیماری سے متعلق ذاتی تجربات کی روشنی میں ایک زبردست تحریر ۔

ڈاکٹر بتول حسینی _ نیویارک

السلام علیکم بہن بھائیو
کرونا وائرس ایک خوفناک بیماری کی طرح پھیل رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری گڈ مڈ باتیں بھی پھیل رہی ہیں اور لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے کیا کیا جائے۔
میرا یہ فرض ہے کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں آپ لوگوں کو صحیع معلومات بہم پہنچاؤں اور آپ لوگوں کو بیماری اور پریشانی سے بچاؤں
اس بیماری کی *تین* کیفیات ہیں۔ ہلکی، درمیانی اور شدید
*ہلکی کیفیت *
کوئی بخار نہیں یا ہلکا بخار 99.5 تک ، فلُو اور ہلکی کھانسی۔ یہ کیفیت ایک سے سات دن میں ختم ہو جاتی ہے مگر کمزوری ضرور ہو گی اور سونگھنے کی حس بھی ختم ہو جائے گی
*درمیانی کیفیت*
اس میں زیادہ تیز بخار 100 تا 100.5، کھانسی بھی زیادہ اور کمزوری بہت زیادہ ہو جائے گی۔ بھوک کے ختم ہونے کیساتھ ساتھ سونگھنے کی حس بھی ختم ہو جاتی ہے۔ چار پانچ بڑے بڑے موشن آتے ہیں۔
یہ کیفیت بھی اک سے سات یا زیادہ سے زیادہ دس دنوں میں ثھیک ہو جائے گی۔ تھوڑی سی سانس کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے مگر ایسی نہیں جیسے دمہ والے کو ہو۔
*شدید کیفیت*
اس میں بہت تیز بخار 101 تا 104 تک,
شدید کھانسی,
دمہ کی طرح سانس کا پھولنا,
شدید کمزوری,
کھانے کیطرف دیکھنا بھی نہ چاہے یعنی بھوک تقریباً ختم۔
جو لوگ پہلی اور دوسری حالت میں مبتلا ہوں
گے ان کی صحتمند ہونے کے 80 - 90 % امکانات ہونگے اور یہ اللہ کا کرم ہے امریکہ میں بھی 85% لوگ بچ گئے ہیں۔
تیسری حالت سب سے خطرناک ہے اور ویسے تو اللہ ہی بچاتا ہے اور مارتا ہے اس حالت میں صرف 50% امید باقی رہ جاتی ہے ۔ یہ بھی اس رب کا کرم ہے کہ یہ کیفیت صرف 10- 15% لوگوں کو ہوتی ہے یہ پورے 14 دن تک رہے گی۔ اس میں آخری دن فیصلہ کن ہوتے ہیں یا تو مرض صحیع ہو جاتا ہے یا بہت ہی زیادہ خراب۔
آخری بات مختلف ٹیسٹ اور کنفیوژن:
میرا مشورہ ہے کوئی کسی قسم کا ٹیسٹ نہ کراؤ نہ ناک کا نہ بلڈ کا، اگر کوئی مفت بھی کر رہا ہےتو بھی نہ کرواؤ۔
وہاں لوگ نہ اس کی استطاعت رکھتے ہیں نہ اس کا فائدہ ہے پھر جھوٹ دھوکا بھی بہت ہے۔ ہر ٹیسٹ مختلف، ان کا وقت بھی مختلف ہے بیماری کی سٹیج کے لحاظ سےاور نتیجہ بھی۔ اس بات کا کوئی فائدہ نہیں کہ اگر ایک ٹیسٹ مثبت آیا ہے تو دوسرا مںفی، اس سے صرف پریشانی اور پیسے کا زیاں ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹر بھی اس بات کو استعمال کر کے پیسے بنا رہے ہیں۔
اگر کرونا کا پتہ چل بھی گیا تو کیا ہو گا یہ اللہ کے حکم سے ہی خود صحیع ہو گا کسی دوا سے نہیں اس لئے میں نے ساری تفصیلات لکھ دی ہیں۔
اب آتے ہیں علاج کی طرف۔
*علاج* :
کسی بھی صورت میں ہر چھ گھنٹے کے بعد paracetamol یا panadol کی اک یا ڈیڑھ گولی کھاؤ بالکل مِس نہ کرو ورنہ بخار کمزور کرے گا ۔
Azithromycin 250 mg ایزی تھرومائیسین
وہاں آرام سے ملتی ہے پہلے دن دو گولی اور پھر روز اک گولی ، کھانسی کی کوئی بھی دوا، ڈائریا کے لئے کوئی دوا نہ لو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا
پہلی اور دوسری حالت میں یہ ہی کریں تیسری حالت میں کسی اچھے ہسپتال سے رجوع کریں
کسی بھی صورت میں بوکھلا نے کی ضرورت نہیں یہ ایک خود صحیع ہونے والا مرض ہے 80 - 85% تک
اس کا راستہ ہر انسان کے کے لئیے کیا ہو گا یہ اللہ پر چھوڑ دو
ہر شخص صحتمند یا بیمار روز اک جنرل *ؤٹامن* ،وٹامن *ڈی* اور ؤٹامن *سی* کھانا شروع کر دے بعد میں بھی کھائیں
جو بیمار ہو جائیں وہ اپنے آپ کو جتنا ممکن ہو سکے گھر والوں سے دور رکھیں۔ ہر وقت *ماسک* پہنے رکھیں۔ برتن *الگ* کرلیں اور ماسک *سب لوگ* گھر میں بھی پہنیں
یہ مرض علامت شروع ہونے سے پہلے 14 دن جسم کے اندر ہوتا ہے اس لئے اللہ کے حکم سے جس کو لگنا ہے، لگ جاتا ہے جب تک پتہ نہ رھا، اللہ مالک مگر جب پتہ چل گیا تو احتیاط بہت ہی ضروری ہے۔ یہ بیماری چودہ دن بعد ختم ہو جاتی مگر اس کے وائرس کے ٹکڑے 4 - 6 ہفتے تک اندر رہتے ہیں پھروہ بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
 
Top