رشتوں کی تھکن

  • Work-from-home

Aks_

~ ʍɑno BɨLii ~
Hot Shot
Aug 2, 2012
44,916
17,651
1,113
آج مجھے گھر آتے ہوئے رات کے آٹھ بج گئے ۔۔۔ سوچا تھا کہ ہو سپٹل سے نکلتے وقت کچھ دیر کو کمرہ نمبر بیس میں نئی مریضہ کو دیکھتی جاؤں ۔۔ جو کل ہی ایڈمٹ ہوئی تھی ۔۔ مجھے تسلی کرنی تھی کہ وہ بات کرنےکے قابل ہوئی ہے کہ نہیں ۔۔ اس نے ایک ہفتے سے ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔ انتہائی تکلیف میں تھی ۔۔ دکھ سے اس کا خوبصورت سانولا چہرہ سیاہی مائل ہو رہا تھا ۔۔۔ بات بے بات آنسو کوئی عجیب سی بے بسی کی داستان بن جاتے تھے ۔۔ کیا ایسا تھا جس کا اسے غم تھا ۔۔ اس کی اینٹری نوٹس بھی نامکمل تھے ۔۔ کمرہ نمبر بیس کی اداس روح آج دن بھر مجھے اپنی طرف متوجہ کر تی رہی تھی لیکن سارا دن کیسے گزرا پتہ ہی نہ چل سکا ۔۔ آخری لمحہ پر اسے پوچھنا ایسے ہی تھا جیسے اسے بتانا تھا کہ اس کی مسیحا اسے بھولی نہیں ۔۔ میں واپس آنا ہی چاہتی تھی کہ وہ میرے ہاتھوں کو تھام کر رو پڑی ۔۔۔ اور میں وہی رک گئی ۔۔ میں سر تاپہ سماعت بن چکی تھی ۔۔۔

وہ کہہ رہی تھی کہ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے ۔۔ سب اس کو پنکی بلاتے ہیں ۔۔ اور اس نے یونیورسٹی میں ابھی داخلہ لیا ہے ۔۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا بس آس پاس اپنی بیمار ماں کو ہی دیکھا تھا ۔۔ اس کی ماں نے کبھی اسے گلے لگا کر پیار نہیں تھا ۔۔۔۔ جب وہ سوتے ہوئے ڈر جاتی تھی اسے کبھی اپنے پاس ہی سو جانے کو نہیں کہاتھا ۔۔ اس کی ماں نے نہ کبھی اس سے سکول یا یونیورسٹی کی کوئی بات پوچھی تھی اور نہ ہی کبھی کوئی فرمائش پوچھی ۔۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ چاہتی نہیں تھی ۔۔ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے کر نہیں سکتی تھی ۔۔۔ انہیں لیور سروسس ہے ۔۔ پنکی نے ایک سرد آہ بھری ۔۔ اور آنکھیں موند لی ۔۔ بس ان کی سانسیں چلتی ہیں پر وہ زندہ نہیں ہیں ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ مر رہی ہیں ڈاکٹر ۔۔ اور میں ان کے ساتھ مر رہی ہوں ۔۔ میں کیا کروں ڈاکٹر ۔۔ کیا کروں ۔۔ اب پنکی ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔ سب مجھے چھوڑ گئے ہیں ۔۔ایسے جیسے ماں صرف میری زمہ داری ہے ۔۔ کوئی بہن بھائی انہیں پوچھنے تک نہیں آتا ۔۔ ابو نے چار سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔۔۔۔ وہ مجھے جیسے اپنے ساتھ بہا لے جا رہی تھی ۔۔

میں اب تھک گئی ہوں ۔۔ میں اپنی ماں کو بوجھ سمجھنے لگی ہوں ۔۔ میر اان سے تعلق محبت کا نہیں صرف “ ترس“ کا رہ گیا ہے ۔۔ اور میں اب اور ترس نہیں کھا سکتی ۔۔۔ کیا میں غلط ہوں ۔۔۔ مجھے بتائیں کہ کیامیں غلط ہوں ۔۔۔ وہ ایک دم میری طرف پلٹی اور میں بس اسے سنے جا رہی تھی ۔۔ کیا میں اپنے بڑے بھائی سے یہ کہنے میں غلط ہوں کہ مجھ سے اب ماں کی اور دیکھ بھال نہیں ہوتی ۔۔۔ کیا اپنی تھکن بانٹنا ۔۔اپنے بوجھ بانٹنا غلط ہے ۔۔ میں نے پنکی کی جوان روشن آنکھوں میں امید کی لوئیں ٹمٹماتی ہوئی دیکھ لی تھیں ۔۔ اس کی تھکن ، اس کی اداسی ہر لفظ میں مجرم کی طرح اقرار کر رہی تھی ۔۔

اکیس سال سے میں نے اپنی ماں کی زندہ لاش دیکھی ہے ۔۔ ہمکلامی بھی ایک عجیب سے کیفیت ہوتی ہے ۔۔دنیا سے بے خبر ۔۔ ہوش سے دور ۔۔ ایسی ہی کچھ کیفیت پنکی کی تھی .

وہ ہمارے درمیاں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔۔ مجھے اپنی ماں سے محبت نہیں ہے تو میں کیا کروں ۔۔۔ میں چار سال کی تھی جب سے اپنی ماں کو کبھی گلاس لا کر دے رہی ہوں تو کبھی انکی دوا انہیں پکڑا رہی ہوں ۔۔ میرے پاس اپنی ماں کو یاد رکھنے کے لئے ایک بھی خوشگوار یاد نہیں ہے ۔۔۔ پتہ کیوں ڈاکٹر .. اس لئے کہ میرے بہن بھائیوں نے مجھ سے کبھی میری تھکن بانٹی ہی نہیں ۔۔ ۔۔ مجھے کبھی جینے ہی نہیں دیا ۔۔۔۔ مجھے کبھی سوچنے ہی نہیں دیا کہ میں بھی جیتی جاگتی انسان ہوں ہوں ۔۔ بس مجھے یاد ہے تو یہی ۔۔ کہ ..

پنکی ماں کا خیال رکھنا ہمارا ایمان ہے .. سوچو کتنا برا لگے گا ہم سب کے ہوتے ہوئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا یا کسی نرس کو ان کی دیکھ بھال کے لئے رکھنا .. اور ماں کو بھی اچھا نہیں لگے گا …
پنکی چھوٹی ہو تم ۔۔ شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ بس تم رہو ماں کے پاس ۔۔
پنکی آج انہیں ڈاکٹر ایڈورڈ کو دیکھانا ہے ۔۔ پلیز زرا دکھا دینا
پنکی آج ہم نہیں آ سکیں گے ۔۔ آج تمہاری بھابھی کو ہالیڈیز پر بیچ کے پاس رہنا ہے ۔۔
پنکی تم کھانا کھا لینا ۔۔ ہم باہر ہی کھا کر آئیں گے ۔۔
پنکی آج چھٹی کر لو ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں
پنکی دیکھنا ماں کوکھانسی ہو رہی ہے
پنکی تم ماں کے پاس ہی سویا کرو جانے انہیں رات کو کس بات کی ضرورت پڑ جائے

میں خیال رکھتے رکھتے تھک گئی ہوں ۔۔۔ میں ہار گئ ہوں ۔۔۔۔ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں ۔۔۔ پر میں مرنانہیں چاہتی ۔۔۔ اس لئے ڈاکٹر میں نے آج دعا کی ہے کہ ۔۔

اے اللہ دیکھ مجھے دیکھ ۔۔ میں صرف اکیس سال کی ہوں اور میں زندہ رہنا چاہتی ہوں اس لئے میری ماں کو اس جہاں سے اٹھا لے ۔۔ میں اس پر اس سے زیادہ ترس نہیں کھا سکتی ۔۔۔ پھر میں نے سارے بہن بھائیوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں ۔۔ ہم سب مل کر خدا سے اپنی ماں کی موت مانگتے ہیں ۔۔۔ تاکہ ہم سب احساس جرم کے بغیر زندہ رہ سکیں ۔۔۔

اور قسمت کا مذاق دیکھئے میرے بہن بھائی مجھے مینٹل ہوسپٹل لے آئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح سچ رو رہا ہے ڈاکٹر ۔۔۔ سچ تو دل میں رہتا ہے ۔۔ جو دل میں رہے وہی توزبان پر بھی آتا ہے ۔۔ رشتے تھکن کی طرح اس وقت بوجھ بن جاتے ہیں جب وہ بانٹے نہیں جاتے ۔۔ میں نے اپنے دل کاسچ کہہ دیا تو میں مینٹل ہوسپٹل میں ایڈمٹ کر دی گئی ہوں ۔۔ اور جومیرے بہن بھائی اکیس سال سے اپنی ماں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ کیا ہے ۔۔۔وہ کیا ہے .. ؟؟

پنکی سسک سسک کر رو رہی تھی ۔۔۔ اور ستم دیکھئے اس کی مسیحا کے پاس بھی اس سے بانٹنے کے لئے تسلی نہیں بچی تھی ۔

تحریر: نگہت نسیم
 

yoursks

Always different.., Confirm
VIP
Jul 22, 2008
17,223
8,013
1,113
دعاؤں میں
aaj ke daur ke eik talkh haqeeqat
society ke bigaar ki eik bari wajaah...,
hamaari be-hissi ki zindaah misaal....
rishton ke darmyaan barhte, nah khatam hote hue faasle

Allah hum pe karam farmaye...
thanks to sharing @Chaya
 
  • Like
Reactions: Chaya

Rana-M-Rehman

Active Member
Dec 19, 2013
283
29
28
32
In your Heart
آج مجھے گھر آتے ہوئے رات کے آٹھ بج گئے ۔۔۔ سوچا تھا کہ ہو سپٹل سے نکلتے وقت کچھ دیر کو کمرہ نمبر بیس میں نئی مریضہ کو دیکھتی جاؤں ۔۔ جو کل ہی ایڈمٹ ہوئی تھی ۔۔ مجھے تسلی کرنی تھی کہ وہ بات کرنےکے قابل ہوئی ہے کہ نہیں ۔۔ اس نے ایک ہفتے سے ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔ انتہائی تکلیف میں تھی ۔۔ دکھ سے اس کا خوبصورت سانولا چہرہ سیاہی مائل ہو رہا تھا ۔۔۔ بات بے بات آنسو کوئی عجیب سی بے بسی کی داستان بن جاتے تھے ۔۔ کیا ایسا تھا جس کا اسے غم تھا ۔۔ اس کی اینٹری نوٹس بھی نامکمل تھے ۔۔ کمرہ نمبر بیس کی اداس روح آج دن بھر مجھے اپنی طرف متوجہ کر تی رہی تھی لیکن سارا دن کیسے گزرا پتہ ہی نہ چل سکا ۔۔ آخری لمحہ پر اسے پوچھنا ایسے ہی تھا جیسے اسے بتانا تھا کہ اس کی مسیحا اسے بھولی نہیں ۔۔ میں واپس آنا ہی چاہتی تھی کہ وہ میرے ہاتھوں کو تھام کر رو پڑی ۔۔۔ اور میں وہی رک گئی ۔۔ میں سر تاپہ سماعت بن چکی تھی ۔۔۔

وہ کہہ رہی تھی کہ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے ۔۔ سب اس کو پنکی بلاتے ہیں ۔۔ اور اس نے یونیورسٹی میں ابھی داخلہ لیا ہے ۔۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا بس آس پاس اپنی بیمار ماں کو ہی دیکھا تھا ۔۔ اس کی ماں نے کبھی اسے گلے لگا کر پیار نہیں تھا ۔۔۔۔ جب وہ سوتے ہوئے ڈر جاتی تھی اسے کبھی اپنے پاس ہی سو جانے کو نہیں کہاتھا ۔۔ اس کی ماں نے نہ کبھی اس سے سکول یا یونیورسٹی کی کوئی بات پوچھی تھی اور نہ ہی کبھی کوئی فرمائش پوچھی ۔۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ چاہتی نہیں تھی ۔۔ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے کر نہیں سکتی تھی ۔۔۔ انہیں لیور سروسس ہے ۔۔ پنکی نے ایک سرد آہ بھری ۔۔ اور آنکھیں موند لی ۔۔ بس ان کی سانسیں چلتی ہیں پر وہ زندہ نہیں ہیں ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ مر رہی ہیں ڈاکٹر ۔۔ اور میں ان کے ساتھ مر رہی ہوں ۔۔ میں کیا کروں ڈاکٹر ۔۔ کیا کروں ۔۔ اب پنکی ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔ سب مجھے چھوڑ گئے ہیں ۔۔ایسے جیسے ماں صرف میری زمہ داری ہے ۔۔ کوئی بہن بھائی انہیں پوچھنے تک نہیں آتا ۔۔ ابو نے چار سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔۔۔۔ وہ مجھے جیسے اپنے ساتھ بہا لے جا رہی تھی ۔۔

میں اب تھک گئی ہوں ۔۔ میں اپنی ماں کو بوجھ سمجھنے لگی ہوں ۔۔ میر اان سے تعلق محبت کا نہیں صرف “ ترس“ کا رہ گیا ہے ۔۔ اور میں اب اور ترس نہیں کھا سکتی ۔۔۔ کیا میں غلط ہوں ۔۔۔ مجھے بتائیں کہ کیامیں غلط ہوں ۔۔۔ وہ ایک دم میری طرف پلٹی اور میں بس اسے سنے جا رہی تھی ۔۔ کیا میں اپنے بڑے بھائی سے یہ کہنے میں غلط ہوں کہ مجھ سے اب ماں کی اور دیکھ بھال نہیں ہوتی ۔۔۔ کیا اپنی تھکن بانٹنا ۔۔اپنے بوجھ بانٹنا غلط ہے ۔۔ میں نے پنکی کی جوان روشن آنکھوں میں امید کی لوئیں ٹمٹماتی ہوئی دیکھ لی تھیں ۔۔ اس کی تھکن ، اس کی اداسی ہر لفظ میں مجرم کی طرح اقرار کر رہی تھی ۔۔

اکیس سال سے میں نے اپنی ماں کی زندہ لاش دیکھی ہے ۔۔ ہمکلامی بھی ایک عجیب سے کیفیت ہوتی ہے ۔۔دنیا سے بے خبر ۔۔ ہوش سے دور ۔۔ ایسی ہی کچھ کیفیت پنکی کی تھی .

وہ ہمارے درمیاں رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں ہیں ۔۔ مجھے اپنی ماں سے محبت نہیں ہے تو میں کیا کروں ۔۔۔ میں چار سال کی تھی جب سے اپنی ماں کو کبھی گلاس لا کر دے رہی ہوں تو کبھی انکی دوا انہیں پکڑا رہی ہوں ۔۔ میرے پاس اپنی ماں کو یاد رکھنے کے لئے ایک بھی خوشگوار یاد نہیں ہے ۔۔۔ پتہ کیوں ڈاکٹر .. اس لئے کہ میرے بہن بھائیوں نے مجھ سے کبھی میری تھکن بانٹی ہی نہیں ۔۔ ۔۔ مجھے کبھی جینے ہی نہیں دیا ۔۔۔۔ مجھے کبھی سوچنے ہی نہیں دیا کہ میں بھی جیتی جاگتی انسان ہوں ہوں ۔۔ بس مجھے یاد ہے تو یہی ۔۔ کہ ..

پنکی ماں کا خیال رکھنا ہمارا ایمان ہے .. سوچو کتنا برا لگے گا ہم سب کے ہوتے ہوئے انہیں نرسنگ ہوم میں رکھنا یا کسی نرس کو ان کی دیکھ بھال کے لئے رکھنا .. اور ماں کو بھی اچھا نہیں لگے گا …
پنکی چھوٹی ہو تم ۔۔ شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ بس تم رہو ماں کے پاس ۔۔
پنکی آج انہیں ڈاکٹر ایڈورڈ کو دیکھانا ہے ۔۔ پلیز زرا دکھا دینا
پنکی آج ہم نہیں آ سکیں گے ۔۔ آج تمہاری بھابھی کو ہالیڈیز پر بیچ کے پاس رہنا ہے ۔۔
پنکی تم کھانا کھا لینا ۔۔ ہم باہر ہی کھا کر آئیں گے ۔۔
پنکی آج چھٹی کر لو ماں کی طبعیت ٹھیک نہیں
پنکی دیکھنا ماں کوکھانسی ہو رہی ہے
پنکی تم ماں کے پاس ہی سویا کرو جانے انہیں رات کو کس بات کی ضرورت پڑ جائے

میں خیال رکھتے رکھتے تھک گئی ہوں ۔۔۔ میں ہار گئ ہوں ۔۔۔۔ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں ۔۔۔ پر میں مرنانہیں چاہتی ۔۔۔ اس لئے ڈاکٹر میں نے آج دعا کی ہے کہ ۔۔

اے اللہ دیکھ مجھے دیکھ ۔۔ میں صرف اکیس سال کی ہوں اور میں زندہ رہنا چاہتی ہوں اس لئے میری ماں کو اس جہاں سے اٹھا لے ۔۔ میں اس پر اس سے زیادہ ترس نہیں کھا سکتی ۔۔۔ پھر میں نے سارے بہن بھائیوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں ۔۔ ہم سب مل کر خدا سے اپنی ماں کی موت مانگتے ہیں ۔۔۔ تاکہ ہم سب احساس جرم کے بغیر زندہ رہ سکیں ۔۔۔

اور قسمت کا مذاق دیکھئے میرے بہن بھائی مجھے مینٹل ہوسپٹل لے آئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح سچ رو رہا ہے ڈاکٹر ۔۔۔ سچ تو دل میں رہتا ہے ۔۔ جو دل میں رہے وہی توزبان پر بھی آتا ہے ۔۔ رشتے تھکن کی طرح اس وقت بوجھ بن جاتے ہیں جب وہ بانٹے نہیں جاتے ۔۔ میں نے اپنے دل کاسچ کہہ دیا تو میں مینٹل ہوسپٹل میں ایڈمٹ کر دی گئی ہوں ۔۔ اور جومیرے بہن بھائی اکیس سال سے اپنی ماں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ کیا ہے ۔۔۔وہ کیا ہے .. ؟؟

پنکی سسک سسک کر رو رہی تھی ۔۔۔ اور ستم دیکھئے اس کی مسیحا کے پاس بھی اس سے بانٹنے کے لئے تسلی نہیں بچی تھی ۔

تحریر: نگہت نسیم
{(cry2)}
 
  • Like
Reactions: Chaya

Aks_

~ ʍɑno BɨLii ~
Hot Shot
Aug 2, 2012
44,916
17,651
1,113
aaj ke daur ke eik talkh haqeeqat
society ke bigaar ki eik bari wajaah...,
hamaari be-hissi ki zindaah misaal....
rishton ke darmyaan barhte, nah khatam hote hue faasle

Allah hum pe karam farmaye...
thanks to sharing @Chaya
ShuKrIyA janab pasand karny k liye :)
 

adnan1

Senior Member
Dec 1, 2013
563
347
213
ya bhi ek talkh haqeeqat jis se hum mooh nahi mor sakte
hum duniya ki is bhagam dor mai apni zimmedarion ko bhulte jare hain
un mutarieb rishton ko pamal karte jare hain
jin rishton ko hamara sacha mazhab islam me bhi un ki Izaat. Azmat. un ka Ehteraam un se muhabaat karne ka hukam hai.
jis tarha'n Quraani Ayaton main "Maa,Baap"ki Azmat or buzurgi ka zikar kiya gaya hai or unke
Adaab o Ehteraam ka hukam diya gaya hai,
isi tarhan Hadees e Nabwi "SAWS" main bhi walidan ki Azmat o buzurgi, Adaab o Ehteraam ka zikar maujood hai
Maa ki khidmat se jannat tou mil jati hey magar jannat ka darwaza us waqt khulta hey jab Baap ki itaat ki jaye.
{maa naimat hai}{maa rahmat hai}
{maa sakoon hai}{maa pyar hai}
{maa kainaat ka rang hai}{maa Allah ki Aata hai}
{maa jannat ki hawa hai}
ALLAh hum sab ko maa baap ki izzat aur ehtaraam karnay ki taufeeq ata farmaye .. ameen.
mera pas alfaz nahi is post k @Chaya
Awesome Awesome & AWESOME
sharing
real credit to copyright owner by : Dr nighat naseem
 

Aks_

~ ʍɑno BɨLii ~
Hot Shot
Aug 2, 2012
44,916
17,651
1,113
ya bhi ek talkh haqeeqat jis se hum mooh nahi mor sakte
hum duniya ki is bhagam dor mai apni zimmedarion ko bhulte jare hain
un mutarieb rishton ko pamal karte jare hain
jin rishton ko hamara sacha mazhab islam me bhi un ki Izaat. Azmat. un ka Ehteraam un se muhabaat karne ka hukam hai.
jis tarha'n Quraani Ayaton main "Maa,Baap"ki Azmat or buzurgi ka zikar kiya gaya hai or unke
Adaab o Ehteraam ka hukam diya gaya hai,
isi tarhan Hadees e Nabwi "SAWS" main bhi walidan ki Azmat o buzurgi, Adaab o Ehteraam ka zikar maujood hai
Maa ki khidmat se jannat tou mil jati hey magar jannat ka darwaza us waqt khulta hey jab Baap ki itaat ki jaye.
{maa naimat hai}{maa rahmat hai}
{maa sakoon hai}{maa pyar hai}
{maa kainaat ka rang hai}{maa Allah ki Aata hai}
{maa jannat ki hawa hai}
ALLAh hum sab ko maa baap ki izzat aur ehtaraam karnay ki taufeeq ata farmaye .. ameen.
mera pas alfaz nahi is post k @Chaya
Awesome Awesome & AWESOME
sharing
real credit to copyright owner by : Dr nighat naseem

thank ji :) :)
 
  • Like
Reactions: adnan1
Top