Promulgated an ordinance for protection of parents.

  • Work-from-home


TM Star
May 27, 2014
ISLAMABAD: President Dr Arif Alvi on Saturday promulgated an ordinance for protection of parents, providing them security against forced eviction from their houses.

The president promulgated the Parental Protection Ordinance 2021, under Article 89 of the Constitution, which makes commission of such acts liable to punishment.

The punishment includes one-year jail term or fine, or both, to those found guilty.

According to the ordinance, parents would have the protection of residing in their houses even if their siblings are owners of houses or they have rented them out. While in cases where the ownership rights vest with parents, they could ask their children to vacate houses.

After receiving a notice, the children would be bound to vacate the house. In case of failure to vacate the house on time, they would have to undergo 30-day imprisonment or pay fine or face both punishments.

The district deputy commissioners have been given the authority to proceed in accordance with law if the vacation notice is not complied with. Under the ordinance, police can make arrests without warrants in these cases while both parents and their children have been given the right to appeal.

Violators may face one-year jail term or fine, or both.

Published in Dawn, May 9th, 2021.

صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس 2021 جاری کردیا۔ آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آرڈیننس کے تحت والدین کو
گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہوگا۔

والدین کو گھروں سے نکالنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا۔
گھر والدین کی ملکیت ہونے کی صورت میں والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا۔

والدین کے بچوں کو تحریری نوٹس دینے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا۔
وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا۔
بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت ضلعی ڈپٹی کمشنر کو کاروائی کا اختیار ہوگا۔

ضلعی ڈپٹی کمشنر والدین کی جانب سے شکایت پر کاروائی کا مجاز ہوگا۔
والدین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ہوگا۔
آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

Salute to President of Pakistan-Mohtaram janab Arif Alvi Sahab.🇵🇰🇵🇰🇵🇰